کشمیر کا پاکستان کی بجائے انڈیا سے الحاق غلطی تھی ، محبوبہ مفتی کا اعتراف

کشمیر پاکستان انڈیا محبوبہ مفتی سرینگر ‏ ‏92 نیوز مقبوضہ جموں و کشمیر ‏ بھارتی اپوزیشن ‏ کٹھ پتلی ‏ ‏ بھارتی حکومت
۰۶ اگست, ۲۰۱۹ ۱۱:۰۳ دن

سرینگر ( 92 نیوز)  مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت ختم کرنے کے اقدام  سے نہ صرف بھارتی اپوزیشن بلکہ کشمیر کے کٹھ پتلی سیاسی رہنمابھی برہم ہیں ، محبوبہ مفتی کہتی ہیں کشمیر کا پاکستان  کی  بجائے انڈیا سے الحاق کرنا بڑی غلطی تھی۔

بھارتی حکومت کے اقدام پر کشمیر اور بھارت دونوں طرف کے سیاستدان بولنے پر مجبور ہوگئے، ایم ایم فیاض نے احتجاجا اپنا کرتا پھاڑ ڈالا ۔کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد نے کہا کشمیر کیلئے کئی لوگوں نے قربانی دی، آج بھارت نے جمہوریت کا خون کردیا ہے۔

بی جے پی کی اپنی اتحادی جنتا دل نے بھی اقدام کی مخالفت کی ہے، پارٹی رہنما رام ناتھ ٹھاکر نے بل کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کمیونسٹ رہنما ٹی کے رنگاراجن نے کہا یہ یوم سیاہ ہے، بی جے پی حکومت نے آئین کا ریپ کیا ہے، مقبوضہ کشمیر اور لداخ کے لوگوں سے پوچھا تک نہیں گیا، آپ نے مزید فوجی وہاں تعینات کردیے ، آپ ایک اور فلسطین بنارہے ہو۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق کٹھ پتلی وزیراعلٰی محبوبہ مفتی ٹویٹ کی، جس میں انھوں نے لکھا کہ آج بھارتی جمہوریت کا سیاہ ترین ہے۔ بھارتی حکومت نے ایک بار پھر کشمیریوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے،اس غیرقانونی اورغیرآئینی اقدام کی مخالفت کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

اپنے گھر میں نظر بند محبوبہ مفتی نے آڈٰیو پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ اب رابطے کایہی راستہ بچا ہے۔

کانگریسی رہنما چدم برم نے بھی حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا، ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے فیصلے کو آنے والی نسلیں بھگتیں گی، یہ وقتی فتح ہے تاریخ ثابت کرے گی کہ بی جے پی کا فیصلہ غلط تھا۔

کانگریسی رہنما کپیل سبل نے کہا کہ بی جے پی اسے تاریخی لمحہ قرار دیا  لیکن یہ فیصلہ تاریخ ہی فیصلہ کرے گی کہ یہ ہے یا نہیں۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کہتے ہیں بی جے پی نے نہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی کشمیریوں کو،  یہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بھی بھارتی حکومت کے فیصلے کو یک طرفہ قرار دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے دور رس اور خطرناک نتائج نکلیں گے۔

تازہ ترین ویڈیوز