‘‘کشمیر پاکستان ، دو قالب ایک جان’’


14 اگست, 2020 2:40 شام

یومِ آزادی ، کشمیریوں کے نام!

***

.

ہے دیکھو نہ جانے کیسا

 وطن کی میرے،

مٹی میں جادو

کھلِتے گلاب، بنِ مُرجھائے

دیتے رہتے ہیں خوشبو!

.

خواب تھا اقبال کا،

دی تعبیر جس کو قائد نے

پھر یکجا ہوئی ہر زُباں،

اُس نعرے کی تائید میں

جو تھا کہ لے کر رہیں گے پاکستان

اور جو ہے کہ،،

جیتا رہے پاکستان!

.

شہیدوں کے لہو کی،

اسکے رنگوں میں ہے لالی

دربارِ خدا سے لوٹتی ہے،

نہ کوئی دعا خالی

.

اور ہو جاتی ہیں یہاں پوری

بنِ مانگے سبھی دعائیں،

دلکش نظارے وطن کے میرے

پہاڑ اور دریا،،

کھیت اور فضائیں

.

مِٹا ہے نہ مٹِے گا،

میری ارضِ پاک کا وجود

یہ رگوں میں ہے دوڑتا،

یہ دلوں میں ہے محفوظ!

.

تکمیل ِ فرائض اور خدمتِ انسانیت،

ہوں زندگی کے مصارف

غم بدل جائیں خوشیوں میں،

یہی تو ہے خوابِ کاشف

.

رب تجھے رکھّے آباد

پاکستان۔۔۔ زندہ باد

.

جب ندائے حق گونجے گی فضاؤں میں ،

باطل سبھی ، تھرتھرا جائیں گے

طلوع سحر یوں ہو گی میرے کشمیر میں

اندھیرے ظلمتوں کے ،

چھٹتے چلے جائیں گے

.

کشمیر اک ’’کلی‘‘ ہے

سرسبزومہکتے چمن کی

یہ اٹوٹ انگ نہیں کسی کا ،

شہ رگ ہے مادرِ وطن کی!

***

شاعرامن

کاشف شمیم صدیقی

تازہ ترین ویڈیوز