کشمیری شدید غم و غصے کا شکار، احساس نئے تنازع کو جنم دے سکتا ہے ، گیتا پانڈے

مقبوضہ کشمیر امریکی کانگریس واشنگٹن ‏ ‏92 نیوز ڈیمو کریٹک پارٹی تھامس آر سوزی وزیر خارجہ ‏ مائیک پومپیو ‏ نریندر مودی ‏
۱۱ اگست, ۲۰۱۹ ۸:۰۹ دن

 لندن (92 نیوز) مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر کشمیری شدید غم و غصہ کا شکار ہیں۔ لوگوں میں یہ احساس پایا جا رہا ہے کہ بھارت نے انہیں دھوکہ دیا ہے اور یہ احساس کسی نئے تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ کہنا ہے برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹر گیتا پانڈے  کا جس نے دو روز تک کشمیر کا سفرکیا اور مختلف لوگوں سے بات چیت کی۔

بی بی سی اردو کی نمائندہ گیتا پانڈے نے کشمیر کے مختلف علاقوں میں دو روز تک سفر کیا اور وہاں کی آنکھوں دیکھی صورتحال بتاتے ہوئے کہا کشمیر جس طرح بند ہے ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

گیتا پانڈے کہتی ہیں وہ جہاں بھی گئیں انہیں یہی جذبات اور خیالات نظر آئے۔ غصہ، پریشانی اور مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف مزاحمت کیلئے ایک غصب ناک عزم ۔

سرینگر کے مرکز میں خان یارنامی علاقہ انڈیا مخالف مظاہروں کے لیے مشہور ہے۔ اس کی جانب جانے والے راستوں کو جگہ جگہ سے بند کر دیا گیا ہے۔

وہاں مقیم لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ محاصرے میں رہ رہے ہیں۔ ایک بزرگ شخص کے مطابق بھارتی حکومت نے بدمعاشی کی حد کی ہوئی ہے اور انہیں دن رات قید میں رکھا ہوا ہے۔

گیتا کے مطابق وہاں کے نوجوان نہ صرف خود بندوق اٹھانے کو تیار ہیں بلکہ ایک شخص نے پولیس والوں کے سامنے کہہ دیا کہ وہ اپنے کمسن اکلوتے بچے کو بھی بندوق اٹھانے کیلئے تیار کرے گا۔

گیتا کے مطابق بہت دور دہلی سے آنے والے ایک آمرانہ حکم نے ایسے لوگوں کو بھی دیوار سے لگا دیا ہے جنھوں نے علیحدگی کی تحریک کی کبھی حمایت نہیں کی۔

گزشتہ پیر کی صبح سے سری نگر میں مکمل لاک ڈاؤن ہے اور شہر میں ایک کھنڈر جیسی خاموشی ہے۔ دکانیں، سکول، کالج اور دفاتر سب بند ہیں اور شہر میں کوئی پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں ہے۔

کشمیری نوجوانوں کا کہنا ہے کہ بھارت نے ان سے ان کی شناخت لے لی ہے۔ جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز