کراچی میں نالوں کی صفائی کا کام این ڈی ایم اے سے سندھ حکومت کو دینے کی استدعا مسترد


13 اگست, 2020 2:08 شام

 کراچی (92 نیوز) سپریم کورٹ نے کراچی میں نالوں کی صفائی کا کام این ڈی ایم اے سے سندھ حکومت کو دینے کی استدعا مسترد کر دی۔

کراچی میں نالوں کی صفائی سے متعلق  کیس کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے نالوں کی صفائی این ڈی ایم اے سے لیکر واپس سندھ حکومت کو دینے کی صوبائی حکومت کی استدعا مسترد کر دی۔

ایڈوکیٹ جنرل نے صفائی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ میں بتایا کہ گجر نالے پر 50 اور دیگر دونالوں 20 سے 25 فیصد کام کر دیا تھا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نالوں کی صفائی ہو رہی تھی تو بارش کا پانی کیسے جمع ہوا؟ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ کچرہ بھرا ہوا تھا اس لئے پانی جمع ہوا تھا۔ یہ بھی بتایا کہ نالوں کی صفائی کا کام ورلڈ بینک کے پیسوں سے ہو رہا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے استدعا کی کہ نالے صاف کرنے کے لئے تیس اگست تک کا وقت دیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ یہاں نالوں کی صفائی کی تصاویر پیش کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ دو نالوں کی صفائی کی تصاویر دیکھا کر کہتے ہیں کراچی صاف کر دیا۔ جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ این ڈی ایم اے کو نالے صاف کرنے کا کہا ہے وہ جاپان سے نہیں آئے ہیں۔ سندھ حکومت لوگوں کی مشکالات کم کرے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اردو بازار میں نالے پر دکانیں بنی ہوئی ہیں، وہ کیوں نہیں گراتے ؟ میونسپل کمشنر نے کہا کہ کارروائی کر رہے ہیں تھوڑی تجاوزات رہ گئی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ باتھ آئی لینڈ میں نالے پر گھر بن گیا ہے لان بن گیا ہے۔ گلاس ٹاور کے ساتھ نالے پر قبضہ ہے۔ سارے درخت کاٹ دیئے شہر میں درخت ہی نہیں۔ درخت ختم کر دیں گے تو لوگ کیسے رہیں گے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے سائن بورڈز ہٹانے سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کراچی سے بل بورڈز سائن بورڈ اور ہورڈنگز ہٹانے کی ذمہ داری کمشنر کراچی کی ہو گی۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو سائن بورڈز سے متعلق رولز بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز