کراچی میں مون سون بارشوں کا پانچواں اسپیل ، پی ڈی ایم اے کا ڈی سیز کو ہنگامی مراسلہ


karachi
13 اگست, 2020 9:47 شام

کراچی ( 92 نیوز) کراچی میں مون سون بارشوں کا پانچواں اسپیل، ممکنہ طور پر شہر میں پھر ایک ہوگا جل تھل ۔ پی ڈی ایم اے نے ڈپٹی کمشنرز کو ہنگامی مراسلہ جاری کر دیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کراچی میں کل سے 16 اگست تک بارشوں کا امکان ہے، پی ڈی ایم اے نے  ڈپٹی کمشنرز کو ہنگامی مراسلے میں  حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی  ، کہا کہ بارشوں کے دوران انسانی جانوں، املاک، لائیو اسٹاک کی حفاظت کے انتظامات کئے جائیں۔

واضح رہے کہ  رواں سال کراچی  میں 6 جولائی سے اب تک مون سون کے چار اسپیلزمیں کرنٹ لگنے سے 25 افراد اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ۔ تاہم کے الیکٹرک ان واقعات کی ذمہ داری لینے کے بجائے بیشتر واقعات کوشہریوں کی غلطی قرار دیتی رہی،جاں بحق افراد کے لواحقین انصاف کےمنتظر ہیں۔

بارشوں کے پہلے اسپیل میں کے الیکٹرک کی ٹوٹی ہوئی تاریں شہریوں میں موت بانٹتی رہیں ، کارساز روڈ پر بجلی کی تار موٹر سائیکل سوار پچاس سالہ محمد رفیق پر گرے اوروہ سڑک پر ہی تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوا۔کریم آباد،ملیر ماڈل کالونی اورہجرت کالونی اورناگن چورنگی میں پانچ افراد کوکرنٹ لگا۔

مون سون کا دوسرے اسپیل میں پولیس اہلکار ارشد علی سمیت تین افرارلقہ اجل بن گئے ۔

بارشوں کا تیسرا اسپیل بھی گارڈن فوارہ چوک،لانڈھی  قذافی ٹاؤن،گلشن حدید اورمویشی منڈی کرنٹ لگنے سےچار افرجاں بحق ہوئے۔

بجلی کی بوسیدہ نظام کے سبب بارشوں کا چوتھا اسپیل بھی شہروں کےلئےخطرناک ثابت ہوا ، اورنگی  ٹاؤن،مہران ٹاؤن، اور ابراہیم  حیدری میں  تین افراد کی زندگی کے چراغ بجھ گئے۔

 لیاقت آباد ایف سی ایریا، جوڑیا بازار اوربلدیہ اتحاد ٹاون  میں افراد کو کرنٹ لگا  ۔ مدینہ کالونی ،گلشن اقبال، سٹی کورٹ کے قریب اور  سول اسپتال کے قریب کرنٹ لگنے سے چارافراد لقمہ اجل بن گئے۔

ماڈل کالونی،لیاری،لانڈھی اور لیاری نیا آباد میں بھی چار افراد بجلی کی جھٹکوں سےمارے گئے۔

اتنی زندگیاں نگلنے کے باوجود نہ کے الیکٹرک کا نظام صحیح ہوا اور نہ ہی کے الیکٹرک نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کی ، جن کے گھر سے انکے پیارے چلے گئے وہ حکومت سے سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ اپنے پیاروں کے خون کا حساب کس سے لیں۔

تازہ ترین ویڈیوز