کراچی میں جامعہ دارالعلوم کی دو گاڑیوں پر فائرنگ ، دو افراد جاں بحق

کراچی ، جامعہ دارالعلوم ، مولانا تقی عثمانی ، مولانا شہاب اللہ ، آئی جی سندھ کلیم امام
۲۲ مارچ, ۲۰۱۹ ۳:۱۲ شام

 کراچی (92 نیوز) کراچی میں جامعہ دارالعلوم کی دو گاڑیوں پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں دو افراد جاں بحق جبکہ دو زخمی ہو گئے۔

 کراچی میں دہشت گردوں نے وار کرتے ہوئے نیپاچورنگی کے قریب معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی  کی گاڑی پر گولیاں برسا دیں۔ مسلح ملزمان موٹرسائیکلوں پر سوار تھے۔ دونوں طرف سے گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔

 حملے میں مفتی تقی عثمانی کی  سکیورٹی پرتعینات پولیس اہلکار فاروق جاں بحق ہو گیا۔ مفتی تقی عثمانی اور ان کے اہلخانہ محفوظ رہے۔

دہشتگردوں نےاگلے ہی لمحے دوسری گاڑی کو بھی نشانہ بنایا۔ اس گاڑی میں مفتی عامر شہاب سکیورٹی گارڈ کے ساتھ سوار تھے۔ یہاں بھی دہشت گردوں نے گولیاں برسائیں۔ حملے میں مفتی عامر شہاب شدید زخمی ہوئے اور ان کا محافظ صنوبرخان جاں بحق ہوا۔

کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی اور جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں بیرونی عناصر ملوث ہو سکتے ہیں۔

 سی ٹی ڈی کی ٹیم بھی جائے وقوعہ پرپہنچی اور شوائد اکھٹے کئے۔ پولیس کو جائے وقوعہ سے پندرہ خول ملے ہیں۔

 ادھر وزیر اعظم عمران خان نے مفتی محمد تقی عثمانی پر فائرنگ کی مذمت کی۔ کہتے ہیں حملہ گھناؤنی سازش ہے، بے نقاب کرنے کیلئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے۔ شہباز شریف اور آصف زرداری نے بھی مولانا پر حملے پر اظہار تشویش کیا۔ چودھری شجاعت اور پرویزالہٰی نے مولانا زبیر عثمانی کو فون کیا اور مفتی تقی عثمانی کی خیریت دریافت کی۔

تازہ ترین ویڈیوز