اسلام آباد ہائیکورٹ کا نومسلم لڑکیوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم

ڈہرکی
۲۶ مارچ, ۲۰۱۹ ۱۰:۵۳ دن

اسلام آباد ( 92 نیوز) ڈہرکی سے لا پتہ ہونے والی دونوں بہنیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہو گئیں ۔ عدالت نے دونوں لڑکیوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیدیا۔

ضلع گھوٹکی میں ہندو مذہب چھوڑ کر مسلمان ہونے والی نومسلم لڑکیاں آسیہ اور نادیہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں ، کیس کی سماعت چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے کی ۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ عدالت اقلیتوں سمیت ہر شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے گی۔نبی کریم ؐکے فتح مکہ اور خطبہ حجتہ الوداع پر دو خطاب موجود ہیں جو  ہمارے لیے قانون و آئین کی حیثیت رکھتے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیراعظم  بھی انکوائری کا حکم دے چکے ،  وزیر انسانی حقوق بھی معاملے کو دیکھ رہی ، تحقیقات کب تک مکمل ہوگی؟۔

حکومتی نمائندے نے آگاہ کیا کہ ایک ہفتے میں انکوائری مکمل کرلیں گے۔

دوسری جانب لڑکیوں نے بتایا انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا۔  

عدالت نے نومسلم لڑکیوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دے دیا اور دونوں لڑکیوں کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات اور ڈی جی ہیومین رائٹس کے سپرد کردیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ایس پی رینک کی خاتون پولیس افسر کو ان کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور کریں جبکہ وفاقی حکومت کی انکوائری رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی۔

تازہ ترین ویڈیوز