چیف جسٹس آف پاکستان کا ضمانت قبل ازگرفتاری کے اصولوں پر دوبارہ غور کا عندیہ

۲۴ مئی, ۲۰۱۹ ۲:۴۸ شام

 اسلام اباد (92 نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان نے ضمانت قبل ازگرفتاری کے اصولوں پر دوبارہ غور کا عندیہ دے دیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ضمانت قبل از گرفتاری کے عام مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا ضابطہ فوجداری ضمانت قبل از گرفتاری کی اجازت نہیں دیتا۔ ضمانت قبل ازگرفتاری کی گنجائش ہدایت اللہ کیس میں 1949 میں نکالی گئی ۔1949 کا زمانہ بدل گیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کسی عزت دار شخص کو بد نیتی سے کیس میں نہ پھنسایا جائے اس لیے گنجائش نکالی گئی۔ سوال یہ تھا کیاعدالت کو باعزت شخص کی عزت کو محفوظ نہیں کرنا چاہیے؟ لگتا ہے اب ضمانت قبل از گرفتاری کے اصولوں پر غور ہونا چاہیے ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں مزید کہا ہر کیس میں بد نیتی کا جواز بنا کر ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں آجاتیں ہیں ۔ جرم ایک نے کیا ہوتا ہے سات بندوں کے نام ڈال دیئے جاتے ہیں۔

تازہ ترین ویڈیوز