چھ سال بعد مہنگائی کی شرح دوبارہ 10 فیصد سے تجاوز کر گئی

Remove term: وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریاتRemove term: بیس ایئر بیس ایئرRemove term: اعداد و شمار اعداد و شمارRemove term: مہنگائی مہنگائیRemove term: مستقبل مستقبلRemove term: شہروں شہروںRemove term: گذشتہ گذشتہRemove term: سالانہ شرح سالانہ شرح
۰۲ اگست, ۲۰۱۹ ۷:۱۶ شام

 اسلام آباد (92 نیوز) چھ سال بعد مہنگائی کی شرح دوبارہ 10 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ گزشتہ سال جولائی میں شرح  5 اعشاریہ 84 فیصد تھی۔

کنزیومر پرائز انڈیکس کے مطابق رواں سال جولائی میں افراط زر کی شرح 10.34 فیصد رہی جس کی بنیادی وجہ گزشتہ چند ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ قرار دے دیا گیا۔

حکومت کی جانب  سے مخصوص ٹیکس اقدامات کے اثرات بھی افراط زر کی شرح میں اضافے کا باعث بنے۔ روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی صارفین اور صنعتوں کے استعمال کیلئے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ سامنے آیا۔

تعلیم 6.9 فیصد، کپڑے 7.4، بجلی، پانی، گیس اور دیگر فیولز 12.74 ، گھریلو ساز و سامان 10.17 ، صحت 8.97 فیصد، ٹرانسپورٹ 14.67 فیصد مہنگی ہوئی۔

جولائی میں کھانے کی اشیا کی قیمتوں میں سب سے ذیادہ اضافہ ہوا۔ آلو 16.84 ، مونگ کی دال 5.41 ، گندم کا آٹا 3.58 ، تازہ سبزیاں 3.56 ، مسور کی دال 2.83 فیصد مہنگی ہوئی۔

گھی 2.49 ، ٹماٹر 1.17 ، چینی 1.09 اور گوشت 0.93 فیصد مہنگئ ہوئیں۔  مرغی کی قیمت 8.26 فیصد، تازہ پھلوں کی قیمت 7.95 فیصد، پیاز 1.73 فیصد پان کی قیمت 0.65 فیصد کم ہوئی۔

تازہ ترین ویڈیوز