پی ٹی آئی کے دھرنے اور فضل الرحمنٰ کے احتجاجی مارچ میں کوئی مماثلت نہیں، شاہ محمود قریشی

قومی سلامتی ، مطلب ، معیشت ، شاہ محمود قریشی
۱۶ اکتوبر, ۲۰۱۹ ۸:۲۸ شام

 اسلام آباد (92 نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا پی ٹی آئی کے دھرنے اور مولانا فضل الرحمنٰ کے احتجاجی مارچ میں کوئی مماثلت نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں مذاکراتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی کسی بات میں کوئی وزن ہو گا تو ہم اس پر بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔ مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے سیاسی جماعتوں کوانگیج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا وزیراعظم نے از خود ایران، سعودی عرب کشیدگی میں کمی کے لئے کوششوں کا بیڑا اٹھایا۔ پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا تاکہ کشیدگی کم کروائی جائے۔ وزیراعظم ایران گئے تاکہ درخواست کریں کہ خطے کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچے۔ دونوں بڑے تیل کے پیداواری ممالک ہیں۔ تیل کی قیمت کشیدگی کی صورت میں بڑھ رہی تھی۔

انہوں نے کہا ایران کی قیادت سے ملاقاتیں بہت اچھی رہیں۔ ایران نے مذاکرات کے لئے آمادگی کا اظہار کیا۔ ایران کے مثبت رویے کو لے کر سعودی عرب گئے، سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ ملاقاتیں بڑی مثبت رہیں، جنگ کے بادل چھٹتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا ایران کی قیادت نے کشمیر پر ہمارے موقف کی مکمل تائید کی۔ سعودی قیادت نے بھی کشمیر پر ہماری مکمل حمایت کی۔ بھارت نے 24 گھنٹوں میں ہی پوسٹ پیڈ موبائل سروس ایس ایم ایس بند کر دی۔ مقبوضہ کشمیر میں خواتین بھی نکل آئیں اور مظاہرے کئے۔ سولُ سوسائٹی کی خواتین نے بھی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرکے انسانی حقوق کی صورتحال سے آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہم نے ملکی اقتصادی صورتحال کو کڑوے اور مشکل فیصلوں سے سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔ اقتصادی بہتری کا آغاز ہو رہا ہے، سرمایہ کاری کے امکانات بڑھ رہے ہیں، کسی قسم کی احتجاجی سرگرمیاں ماحول خراب کر سکتی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا گورننس کو بہتر بنانا ہے اس کے لئے تھرڈ ٹیئر آف گورنمنٹ کو اسٹیبلش کرنا ہے۔ علما اور مشائخ نے حکومت کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ وزیراعظم، علما و مشائخ سے راہنمائی حاصل کرنے کے لئے ملیں گے۔

تازہ ترین ویڈیوز