پشاور میں ملزم پر برہنہ کر کے تشدد ،جوڈیشل کمیشن نے 11افراد کو ذمہ دارٹھہرادیا


torture
۰۱ جولائی, ۲۰۲۰ ۱۲:۵۶ شام

پشاور ( 92 نیوز) پشاور میں ملزم کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن نے کام شروع کر دیا۔ متاثرہ ملزم ردیع اللہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں بیان قلمبند کراتے ہوئے دو تھانوں کے ایس ایچ اوز اور گیارہ دیگرافراد کو مورد الزام ٹھہرا دیا۔

پشاور پولیس کی جانب سے نشہ کی حالت میں افسران کو گالیاں دینے والے ملزم ردیع اللہ عرف عامرتھکالے کو پولیس تھانے لائی، برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی ، واقعہ پر شدید عوامی رد عمل سامنے آیا۔

صوبائی حکومت نے بھی واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ، پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کردیا ، ملزم عامر تھکالے نے جوڈیشل مجسٹریٹ فاروق احمد کی عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرالیا۔

پولیس تشدد کا شکار ہونے والے عامر تھکالے نے تین گھنٹے کے طویل بیان میں نہ صرف تھانہ تھکال اور یکہ توت کے ایس ایچ اوز اور گیارہ دیگر افراد کو مورد الزام ٹھہرایا بلکہ یہ بھی بتایا کہ کہ وہ شناخت پریڈ میں ان کی نشاندہی کرسکتا ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز

Oops, something went wrong.