پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کی رپورٹ طلب

پرویز مشرف
۰۷ مارچ, ۲۰۱۹ ۴:۰۱ شام

اسلام آباد ( 92 نیوز) سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت سے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس  کی رپورٹ طلب  کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ کوئی ملزم چھوٹا بڑا نہیں ہوتا،سب برابر ہوتے ہیں، مشرف کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کے تین نومبر ایمرجنسی اقدام کیس کی سماعت  ہوئی ،  ٹرائل میں تاخیر پر وکیل پرویز مشرف اور حکومت کی استغاثہ ٹیم کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔

غداری کیس

سپریم کورٹ کا کہناتھا کہ رجسٹرار خصوصی عدالت بتائیں کہ سنگین غداری کیس کے ٹرائل کی تاخیر میں کیا وجوہات ہیں ، آئندہ سماعت پر تعین کریں گے کہ پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی کارروائی کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نئی خصوصی عدالت تشکیل پانے کے باوجود مشرف کا ٹرائل کیوں رکا ہوا ہے؟، حکومت پرویز مشرف کو لانے کے لیے کیا کررہی ہے؟، پہلے یہ تاثر دیا گیا کہ ای سی ایل سے نام عدالت نے نکالا ہے۔

مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنا حکومت کا کام تھا۔ان کو واپس لانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس  میں کہا  کہ اٹارنی جنرل مشرف کو واپس لانے کے اب تک کے اقدامات سے آگاہ کریں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف 342 کا بیان ریکارڈ کرانے نہیں آتے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ انکاری ہیں ، کیا ملزم کے ہاتھوں عدالت یرغمال ہوسکتی ہے؟۔

چیف جسٹس نےہدایت کی کہ خصوصی عدالت پرویز مشرف سے پوچھے جانے والے ہر سوال کے آگے ناں لکھ کر کارروائی آگے بڑھائے۔ کیس کی سماعت 25 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔

تازہ ترین ویڈیوز