پاکپتن اراضی کی الاٹمنٹ کیس میں تحقیقات کیلئے ٹی او آرز سپریم کورٹ میں جمع



پاکپتن اراضی کیس
۱۱ جنوری, ۲۰۱۹ ۵:۵۷ شام

 اسلام آباد (92 نیوز) پاکپتن دربار اراضی کی الاٹمنٹ کیس میں عدالت عظمیٰ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی کے سربراہ حسین اصغر نے تحقیقات کے ٹی او آرز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیے ۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ٹی او آرز کی روشنی میں نواز شریف سے بطور وزیراعلی پنجاب اوقاف کی زمین الاٹ کرنے  کے معاملہ کی تحقیقات کرے گی۔

ٹی او آرز کے مطابق دربان قطب الدین نے اگست 1986 میں وزیراعلیٰ کو اوقاف کی زمین الاٹ کرنے کی درخواست دی ۔ محکمہ اوقاف نے وزیر اعلی کی ہدایات پر عمل کر کے دسمبر 1969 کا نوٹی فیکیشن واپس لیا ۔

دربان قطب الدین نے سابق وزیراعلیٰ نواز شریف کو درخواست دیکر ریلیف لیا جبکہ دربان قطب الدین ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ سے اپنے حق میں فیصلہ لینے میں ناکام رہے؟۔ کیا وزیراعلیٰ عدالتی فیصلے کے برعکس احکامات دینے کا اختیار رکھتے تھے؟۔

ٹی او آرز کے مطابق محکمہ اوقاف کی جانب سے اراضی سے دستبرداری کے نوٹی فکیشن کے بینیفشری کون ہیں؟۔  گورنر یا وزیراعلیٰ کے پاس آئین یا قانون کے تحت اوقاف کی زمین الاٹ کرنے کا کیا اختیار ہے ؟۔

اگر سابق وزیر اعلیٰ نے نوٹی فیکیشن واپس لینے کے احکامات نہیں دیے تو اس اقدام کے ذمہ دار اور بینیفشری کون ہیں ؟ ۔ کیا ضلعی محکمہ لینڈ نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کیا ۔

واضح رہے سپریم کورٹ نے اوقاف کی زمین الاٹ کرنے کے معاملہ پر جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔

نواز شریف پر 1985 میں بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اوقاف کی زمین واپسی کا نوٹی فکیشن واپس لینے کا الزام ہے ۔

قبل ازیں نوازشریف گزشتہ پیشی پر عدالت حاضر ہوئے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے تحقیقات پر آمادہ ہوگئے اور اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا۔



تازہ ترین ویڈیوز

Oops, something went wrong.