وفاقی حکومت کا افسران کی پروموشن پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت افسران کی پروموشن ‏ اسلام آباد روزنامہ 92 نیوز وفاقی حکومت
۱۶ ستمبر, ۲۰۱۹ ۸:۰۰ دن

اسلام آباد(روزنامہ 92 نیوز)وفاقی حکومت نے اعلیٰ افسران کی ترقیوں کی پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سول سرونٹس پروموشن رولز 2019تیار کرلئے ہیں،نئی پالیسی منظور ہونے کی صورت میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں کرپشن کے کیسز والے افسران کی ترقی بھی زیرغور آسکے گی۔

ترقی کیلئے ترقیاتی بورڈ کے نمبر بھی بڑھانے کی تجویز دی گئی  ، روزنامہ 92نیوز کو دستیاب دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے افسران کی ترقیوں کی پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سول سرونٹس پروموشن رولز 2019تیار کرلئے ہیں ۔

نئی ترقیوں کی پالیسی کا اطلاق گریڈ 18سے گریڈ 21تک کے افسران کی ترقیوں پر ہوگا ، مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ ترقیوں کیلئے پروموشن بورڈز کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے ۔پرفارمنس اورٹریننگ ایویلویشن رپورٹس کے نمبرز کم کر کے سی ایس بی،ڈی ایس بی بورڈ کے نمبرز 15سے بڑھاکر 30فیصد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔

پرفارمنس ایویلویشن رپورٹس کے نمبر 50سے کم کرکے 40فیصد کرنے اور ٹریننگ ایویلویشن رپورٹس کے نمبر 35سے کم کرکے 30فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے  ، کرپشن کے کیسزوالے افسران کو ترقیوں میں ایمنسٹی کی بھی تجویز شامل ہے ۔

نیب، ایف آئی اے میں کرپشن کے کیسز والے افسران کی ترقیوں پر غور ہو سکے گا ،  نئی پالیسی منظور ہونے کی صورت میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں کرپشن کے کیسز والے افسران کی ترقی بھی زیر غو ر آسکے گی  ،  تجویز کا اطلاق ایک سال سے زیادہ التوا کے شکار کیسز والے افسران کی ترقیوں پر ہو گا۔

جن افسران کیخلاف محکمانہ انکوائریاں چل رہی ہیں وہ بھی ترقیوں کیلئے اہل ہونگے ۔تجویز کی منظوری پر کرپشن کیسز والے 18سے گریڈ 21 تک کے افسران مستفید ہو سکیں گے ۔ عدالتوں اورٹربیونلز میں تاخیرکے باعث التوا کا شکار کیسز پر اطلاق نہیں ہو گا۔

تازہ ترین ویڈیوز