ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں بڑھانے پر وزیراعظم کا مایوسی کااظہار

پنجاب اسمبلی
۱۴ مارچ, ۲۰۱۹ ۲:۲۱ شام

اسلام آباد ( 92 نیوز) وزیر اعظم عمران کان نے ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں بڑھانے پر مایوسی کا ظہار کر دیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ ہمارے  پاس اس وقت عوام کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کےلئے وسائل موجود نہیں ، ایسی صورتحال میں تنخواہوں میں اجافے کا کوئی جواز نہیں تراشا جا سکتا۔

بل کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب چارلاکھ پچیس ہزاراور اسپیکردولاکھ ساٹھ ہزاروصول کریں گے۔

اراکین اسمبلی کی تنخواہ اور مراعات تراسی ہزار ماہانہ سے بڑھا کر ایک لاکھ پچانوے ہزار کر دی گئی۔

ارکان پنجاب اسمبلی کا تاحیات علاج فری ہوگا،سابق ارکان  کو بھی میڈیکل کی سہولتیں مفت ملیں گی۔

وزیراعظم کی جانب سے معاملے پر اظہار ناراضی سامنے آتے ہی  وفاقی وزیر اطلاعات  نے بھی یو ٹرن لے لیا۔

فواد چودھری نے پہلے ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کی حمایت کی  مگر بعد میں بیان بدل لیا۔

فواد چودھری

پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ  ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں کم ہیں، بڑھانے کا فیصلہ بہترین ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی ٹویٹ کے بعد فواد چودھری نے فیصلے کو وزیراعظم کی پالیسی سے متصادم قرار  دے دیا۔

فواد چودھری نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وزیر اعلیٰ اور پنجاب اسمبلی کے خود کو نوازنے کے اقدام وزیر اعظم اور وفاقی حکومت کی پالیسیز سے متصادم ہیں ، تحریک انصاف کی پالیسی کا صریحاً مذاق اڑایا گیا ہے ۔

وزیر اطلاعات فواد چودھری نے  فیصلے پر فوری نظر ثانی  کا مطالبہ  بھی کردیا۔

ادھر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری ارکان کی تنخواہیں بڑھانے کے حامی نکلے ۔

ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے تنخواہوں میں اضافہ کو بہترین اقدام قرار دیدیا۔

دوست مزاری کہتے ہیں کہ تنخواہوں میں اضافہ کوئی غلط اقدام نہیں ارکان کے مطالبہ پر بل پاس کیا گیا۔

دوسری جانب اب تنخواہوں کےمعاملے پر گیند گورنر پنجاب چودھری سرور کی کورٹ میں ہے ۔

پنجاب اسمبلی کے ارکان کی نظریں اب چودھری سرور  گورنر پنجاب پر لگی ہوئی ہیں ۔

اگر گورنر پنجاب  بل پر دستخط کرتے ہیں تو ہی ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ ہو گا۔

دوسری جانب گورنر پنجاب نے بل پر دستخط کرنے سے پہلے وزیر اعظم سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے ۔

تازہ ترین ویڈیوز