وزیر اعظم نے حزب اختلاف کے کل کے جلسے کو سرکس، مقررین کو فنکار قرار دیدیا


Pm imran khan
17 اکتوبر, 2020 6:25 شام

اسلام آباد ( 92 نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے حزب اختلاف کے کل کے جلسے کو سرکس اور مقررین کو فنکار قرار دے دیا۔بلاول اور مریم نواز کا نام لئے بغیر انہیں بچہ کہہ کر پکارا ، کہا کہ  ان دونوں نے پیسہ بنانے کیلئے ایک گھنٹہ بھی کام نہیں کیا ۔

ٹائیگر فورس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے گزشتہ روز ہونیوالے حزب اختلاف کے جلسے سے متعلق کہا کہ میں جو بات سرکس پر کروں گا آپ بہت انجوائے کریں گے،گیارہ سال پہلے میں نے پیش گوئی کی تھی جب چوروں کے اوپر ہاتھ پڑے گا نورا کشتی کھیلنے والے سب اکٹھے ہوجائیں گے،کل رات سب نے دیکھ لیا کنٹینر پر یہ سب اکٹھے تھے،کل جو دو بچوں نے تقریریں کی تھیں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا،ایک ان میں سے نانی ہوگئی ہے لیکن میرے لیے بچے ہی ہیں،انسان جب تک زندگی میں جدوجہد نہیں کرتا وہ لیڈر بن ہی نہیں سکتا،ان کے بچوں نے ایک گھنٹہ بھی حلال کا کام نہیں کیا، اس لیے ان پر تبصرہ کرنا فضول ہے،ٹویلتھ مین پر میں کیا بات کروں،اس نے لندن میں بیٹھ کر جو گفتگو کی اس پر بات کرنا چاہتا ہوں،لندن جانے سے پہلے شکل کچھ اور لندن جاکر کچھ اور ہوگئی ہے،یہ تصویر دیکھ کر شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے،شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آنا بڑا مشکل کام ہے،میری بھی آنکھوں میں آنسو آجاتے اگر میں اس کو اچھی طرح نہ جانتا ہوتا،بالی ووڈ میں بھی کوئی ایسی ایکٹنگ نہیں کرسکتاجیسی انہوں نے کی،ہماری کابینہ کے سامنے جب یہ اداکاری ہورہی تھی تو شیریں مزاری رونا شروع ہوگئیں۔

وزیر اعطم نے کہا کہ برصغیر کی تاریخ میں کبھی بھی ہندوستان میں ایسی حکومت نہیں آئی جو مسلمانوں سے اتنی نفرت کرتی ہو جتنی مودی کی حکومت کرتی ہے،ہمارے فوجیوں پر مسلسل حملے ہورہے ہیں،ہر روز ہمار ےفوجی اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں،پرسوں سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے شہادت پائی،یہ اپنی جان کی قربانیاں ہمارے لیے اور ملک کے لیے دے رہے ہیں،یہ  جو باہر بھاگا تھا ،یہ وہ نواز شریف ہے جو آج فوج کے اوپراور فوج کے سربراہ کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کررہا ہے، نوازشریف جنرل جیلانی کے گھر کے اوپر سریا بناتے ہوئے وزیربناتھا،یہ جوتے پالش کرتے کرتے چیف منسٹر بنا ،یہ وہ آدمی ہے جس نے بینک سے کروڑوں روپیہ لیا تھا،اس نے زرداری کو دو دفعہ جیل میں ڈالا،حدیبیہ پیپرملز کا کیس زرداری نے نوازشریف پر بنایا تھا،ریمنڈبیکر نے ان دونوں کی کرپشن پر کتاب لکھی،باہر کے ملکوں میں کوئی بھی چیز ثبوت کے بغیرکتاب میں نہیں لکھ سکتے،یہ لوگ اپنا چوری کیا ہوا پیسہ بچانے کے لیے ملک کو بیچ سکتے ہیں،ان کا تو پیسہ ہی خدا ہے،انہوں نے تو وہ کام کیا جو میرجعفر اور میرصادق اپنی قوم کے ساتھ کرچکےہیں،یہ حملہ سربراہ پر نہیں ،پاکستانی فوج پر حملہ ہے،یہی بات نریندرمودی کررہا تھا،نریندرمودی نے کہا ہمیں نوازشریف پسند ہے لیکن پاکستان کا آرمی چیف دہشت گرد ہے،اس وقت نوازشریف خاموش بیٹھا تھا،آج نوازشریف کی ہندوستانی اخبارات میں تعریفیں ہورہی ہیں،یہ وہ نوازشریف ہے جو جسٹس قیوم کو فون کرکے کہتا تھا کہ تین نہیں پانچ سال سزا دو،اس کے لیے عدلیہ جب تک ٹھیک ہے جب تک وہ اس کے ساتھ کھڑی ہے،دیبیہ پیپر ملز کا اوپن اینڈ شٹ کیس جب بند ہوتا ہے تو عدلیہ بہت اچھی ہے،پاناما کیس کا فیصلہ ہوتا ہے تو عدلیہ بہت بری ہے۔

ٹائیگر فورس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اب جو عمران خان دیکھیں گے وہ پہلے سے مختلف ہوگا، اب کسی بھی ڈاکو کو کسی قسم کا پروڈکشن آرڈر نہیں ملے گا،شہبازشریف پر 23ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے، میری چیف جسٹس سے درخواست ہے حکومت سے آپ کو جو مدد چاہئے ہم دینے کو تیار ہیں لیکن خدا کے لیے ان کے کیسز جلد ازجلد ختم کریں، نیب سے بھی کہتا ہوں کئی جگہ آپ نے بہت زبردست کام کیا ہے لیکن خدا کا واسطہ ہے کیسز کو منطقی انجام تک تو پہنچاؤ،ہم نیب کو بھی ہر قسم کی مدد دینے کو تیار ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 2013ء کے الیکشن کے بعد میں نے صرف چار حلقے کھولنے کی بات کی تھی،انہوں نے حلقے کھولنے سے انکار کیا اور جب کھلے تو چاروں حلقوں میں دھاندلی نکلی، خان2018ء میں ہم نے کہا جو حلقے کہیں گے کھول دیں گے،نوازشریف جب نااہل ہوا تو ضمنی انتخاب ہوا جس میں اس کی اہلیہ نے حصہ لیا،وہ الیکشن جیتنے کے لیے انہوں نے ایک حلقے میں ڈھائی سو کروڑروپے خرچ کردیا،ہم نے اس حوالے سے کیس دائر کردیا ہے،ایک سیالکوٹ کا بہت بڑا رنگ باز ہے جو بڑی بڑی باتیں کرتا ہے،چھاتی نکال کر بڑی بڑی بڑھکیں مارتا ہے۔

عمران خان نے ٹائیگر فورس کے حوالے سے کہا کہ 28مارچ کو ہم نے اپنی ٹائیگرفورس بنائی تھی، تب سے جتنی بھی ایکٹی ویٹی کیں میں قوم کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ٹائیگرزکو اپنا مقام اور کام سمجھنا بہت ضروری ہے،رضاکار فورس کا معاشرے میں بہت بڑا مقام ہوتا ہے،آپ کا سب سے بڑا کام شہریوں کی ضروریات اور حقوق کی حفاظت کرنا ہوتی ہے،ٹائیگرز کا بہت اہم کردار ہے،پاکستانی وہ قوم ہے جب مشکل وقت آتا ہے یہ قوم اپنے ملک کیلئے کھڑی ہوجاتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب میں کینسراسپتال بنانے نکلا تو بہت مشکل تھی کیونکہ بہت زیادہ پیسہ اکٹھا کرنا تھا،اس وقت مجھے کسی نے کہا عوام  سے مدد مانگو،اس کے بعد معجزہ ہوگیا اور اتنا بڑا اسپتال کھڑا ہوگیا،تب بھی اس وقت میں آپ جیسے لوگوں کو ٹائیگرز کہتا تھا جنہوں نے مل کر اسپتال بنایا، اسپتال چلانے کے لیے بھی مجھے رضاکاروں کی ضرورت پڑی تھی،دنیا کا واحد کینسر اسپتال ہے جہاں 75فیصدکینسر کے مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ  پاکستان دس ملکوں میں سب سے زیادہ کلائمٹ چینج سے متاثر ہے،دو سال ہمارے ملک میں گندم کم ہوئی کیونکہ بارش غلط وقت پر ہوئی،اگلے تین سال میں 10ارب درخت لگانے ہیں یہ کوئی حکومت نہیں کرسکتی،ہم نے پختونخوامیں قوم کے ساتھ مل کر ایک ارب درخت لگائے،ہم نے صرف درخت ہی نہیں لگانے ہم نے اپنا پانی بھی صاف کرنا ہے،ہم دریاؤں میں گندا پانی پھینک رہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ  مہنگائی کی کئی وجوہات ہیں،ہمارا روپیہ گرا  اس کی وجہ یہ تھی کہ جب ہمیں حکومت ملی تو سب سے بڑا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا،40ارب ڈالر کا خسارے کا سامنا تھا،جب خسارہ ہوتا ہے تو ڈالر اوپر اور روپیہ نیچے چلا جاتا ہے،جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو باہر سے خریدی جانے  والی چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں،ڈیزل اور پٹرول بھی مہنگا ہوجاتا ہے، میں جان کر ڈیزل نہیں کہہ رہا،باہر سے خریدا گیا پام آئل بھی مہنگا ہوجاتا ہے، 60فیصد دالیں باہر سے امپورٹ کی جاتی ہیں،ندو سال بارشیں اس وقت ہوگئیں جب گندم کی کٹائی ہونا تھی،اس لیے گندم کا خسارہ ہوگیا،جب گندم کی پیداوار کم ہوئی تو اس کی قیمتیں اوپر جانا شروع ہوگئی،ہمیں اس کا دیر سے علم ہوا کیونکہ ہمارا سسٹم ٹھیک نہیں،نملک میں گندم کی ذخیرہ اندوزی شروع ہوگئی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف مجھے ٹائیگرفورس کی ضرورت ہے،آپ نے کہیں جاکر خود مداخلت نہیں کرنی،آپ کے پاس موبائل فون ہے، آپ نے تصویر لے کر پورٹل پر ڈال دینی ہے،اس کے بعد ایکشن لینا انتظامیہ کا کام ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جن دکانوں پر نرخ لسٹ آویزاں نہ ہو اس کی تصویر بھی بھیجنی ہے،اس طرح آپ ایڈمنسٹریشن کی مدد کریں گے،آپ نے خود کہیں بھی مداخلت نہیں کرنی،اگر آپ مداخلت شروع کریں گے تو ایسے لوگ بھی آجائیں گے جو ٹائیگربن کر پیسہ بنانا شروع کردیں گے،چینی بنانے والے ملک میں تھوڑے سے لوگ ہیں لیکن سب سے زیادہ طاقتور ہیں،زداری خاندان اور شریف برادان کی شوگر ملز ہیں،یہ لوگ اپنی مرضی سے چینی کی قیمتیں مقرر کرتے تھے،ہم نے بہت گہرائی میں تحقیقات کرائی ہیں ہم سب چیزیں پتہ چل گئی ہیں،ہم پلان لے کر آرہے ہیں، آئندہ آپ کو مہنگی چینی نہیں ملے گی۔

تازہ ترین ویڈیوز