وزیر اعظم بورس جانسن کا پارلیمنٹ معطل کرنے کا فیصلہ غیرقانونی قرار


۲۴ ستمبر, ۲۰۱۹ ۷:۳۳ شام

 لندن (92 نیوز) برطانوی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم بورس جانسن کا پارلیمنٹ معطل کرنے کا فیصلہ غیرقانونی قرار دیا ۔ 11 ججوں نے متفقہ فیصلہ دیا۔

برطانیہ میں آئینی بحران شدت اختیار کر گیا۔ برطانوی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ پارلیمان کو بریگزٹ ڈیڈ لائن کی وجہ سے اس کے فرائض ادا کرنے سے روکنا غلط ہے۔

برطانوی سپریم کورٹ کی صدر لیڈی برینڈا ہیل کا کہنا تھا پارلیمنٹ کی معطلی کا ہماری جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر بے حد اثر پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا پارلیمنٹ کی معطلی کا کوئی معقول جواز نہیں تھا۔

لیڈی ہیل کا مزید کہنا تھا ہاوس آف لارڈز اور ہاؤس آف کامنز کے اسپیکرز اپنے اپنے اجلاس بلانے کیلئے فوراً اقدامات کریں۔ یہ فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے کہ آگے کیا کرنا ہے۔

10 ڈاوئنگ سٹریٹ کے مطابق  وہ فی الحال فیصلے پر کارروائی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب برطانوی اپوزیشن لیڈر جیرمی کوربن نے پارلیمنٹ کا اجلاس فوری طلب کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے اس ماہ کے شروع میں اکتوبر کے وسط تک پارلیمنٹ کو پانچ ہفتوں تک معطل کر دیا تھا۔ بورس جانسن کا کہنا تھا اپوزیشن بریگزٹ میں تاخیر چاہتی ہے۔  تاہم وہ ڈیل کے بغیر بھی یورپی یونین سے نکل سکتے ہیں۔

تازہ ترین ویڈیوز