Wednesday, May 12, 2021
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

نیب تمام کوششوں کے باوجود خواجہ برادران کا پیراگون سے تعلق جوڑنے میں ناکام رہا ،سپریم کورٹ

نیب تمام کوششوں کے باوجود خواجہ برادران کا پیراگون سے تعلق جوڑنے میں ناکام رہا ،سپریم کورٹ
July 20, 2020
اسلام آباد (92 نیوز) سعد رفیق اور سلمان رفیق کی ضمانتوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا نیب تمام تر کوششوں کے باوجود خواجہ برادران کا پیراگون کے ساتھ تعلق جوڑنے میں ناکام رہا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر کے تحریرکردہ 87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا آئین ہر شخص کی عزت و وقار کو تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن لوگوں کو حقوق سے تسلسل کے ساتھ محروم رکھا جاتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے خواجہ برادران کیخلاف کیس میں اصول مساوات، رواداری اور جمہوری اصولوں کے احترام کو نظر انداز کیا گیا۔ کرپشن، اقربا پروری، نااہلی، عدم برداشت ہمارے معاشرے سرایت کر چکی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا حیران کن ہے خواجہ بردران کے نام کیسے شامل ہوئے اور نیب  نے ایکشن کیسے لیا۔ قیصر امین بٹ کو وعدہ معاف گواہ بنانے  کا مطلب ہے کہ نیب کے پاس خواجہ بردران کے خلاف ثبوت نہ تھے۔ عدالت نے مزید کہا نیب کی جانب سے درخواست گزاروں سے مبہم، غیر ضروری اور غیر متعلقہ سوالات پوچھے گئے۔ ماتحت عدلیہ میں زیر التواء دیوانی کیس کو  نیب کے ریفرنس میں شامل کیا گیا۔ جسٹس مقبول باقر نے مزید لکھا یہ مقدمہ نیب قانون کی خلاف ورزی کا مظہر اور بنیادی حقوق کی پامالی، آزادی سے محرومی اور انسانی عظمت کی توہین کی کلاسک مثال ہے۔ کرپشن کیخلاف اقدامات مینڈیٹ کے مطابق ہونے چاہئیں۔ سپریم کورٹ نے کہا بظاہر نہیں لگتا خواجہ برادران نے ایسا جرم کیا جس کا نیب ٹرائل ہو۔ نیب خواجہ بردران کا پیراگون کے ساتھ تعلق جوڑ نہ سکا۔ خواجہ برادران کو حراست میں رکھنا نیب قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا نیب قانون فوجی دور میں بنایا گیا،عام تاثر ہے نیب کا قانون سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا،غیر مساوی رویئے کی وجہ سے لوگوں کا نیب کی ساکھ اور غیر جانبداری پر اعتماد متاثر ہوا۔ جسٹس مقبول باقر نے فیصلے میں لکھا نیب  ایک سیاسی جماعت پر ہاتھ ڈالنے پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے جبکہ دوسری جانب کے لوگوں کو طویل عرصے کیلئے گرفتار کیا جاتا ہے،ایسا رویہ قوم کی خدمت نہیں، اس سے ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ جسٹس مقبول باقر نے فیصلے میں حبیب جالب کی نظم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو، آئین اور نیب کی کارکردگی پر لکھا اب تلک تو دیکھ نا پائے، دیکھنا ہم جو چاہتے تھے۔