نجی اسپتالوں میں مریضوں کا خیال نہیں رکھاجاتا، چیف جسٹس پاکستان


supreme-court نجی اسلام آباد ‏ ‏92 نیوز چیف جسٹس پاکستان ‏ گلزار احمد ‏ ریگولیٹ ‏ ریمارکس
۱۸ فروری, ۲۰۲۰ ۱۰:۰۰ دن

اسلام آباد (92 نیوز) چیف جسٹس پاکستان  گلزار احمد نے نجی اسپتالوں کو ریگولیٹ کرنے کے کیس میں ریمارکس دیے کہ نجی اسپتالوں میں مریضوں کا خیال نہیں رکھا جاتا، ڈاکٹرز کی غفلت سے مریض مرجاتے ہیں، بغیر پروٹوکول کے میں  بھی کسی نجی اسپتال چلا جاؤں  تو کوئی نہیں پوچھے گا، لوگوں سے پیسے لے لیتے ہیں لیکن علاج نہیں کرتے۔

لاہور کے نجی اسپتال میں 3 سالہ بچی کی موت کے کیس کی چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی ، وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پیش ہوئے ۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نجی اسپتالوں میں مریضوں کا خیال نہیں رکھا جاتا ، ڈاکٹرز کی غفلت سے مریض مر جاتے ہیں ، اسپتال کو غفلت پر 10 سے 20 ملین روپے لواحقین کو دینا پڑیں تو پتہ چلے گا ، لوگوں سے پیسے لیتے ہیں لیکن علاج نہیں کیا جاتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نجی اسپتالوں کا یہ حال ہے کہ اگروہ بھی بغیرپروٹوکول کسی اسپتال میں چلے جائیں تو کوئی نہیں پوچھے گا ، کراچی کے نیشنل اسپتال میں امل عمر کا معاملہ بھی بہت سنجیدہ تھا ، کراچی میں بھی بچی کا کیس تھا ، لاہور میں بھی بچی کا کیس ہے۔

اسپتال کے ڈاکٹر نے بتایا کہ بچی کے ورثا کو نجی اسپتال نے معاوضہ ادا کر دیا ہے ، وفاقی اورصوبائی حکومت کے نمائندوں نے یقین دہانی کرائی کہ نجی اسپتالوں کو  ریگولیٹ کرنے کیلئے قانون سازی کررہے ہیں۔اس پرعدالت نے معاملہ نمٹا دیا۔

تازہ ترین ویڈیوز