نئے برطانوی وزیر اعظم کیلئے دوڑ شروع ہو گئی ‏

لندن ‏ ‏92 نیوز برطانوی وزیر اعظم ‏ تھریسامے ‏ برطانوی وزیر اعظم کیلئے دوڑ کنزریٹو پارٹی ‏ برطانوی میڈیا ‏ سابق وزیر خارجہ ‏ بورس جانسن وزیر بین الاقوامی ترقی
۲۵ مئی, ۲۰۱۹ ۱۱:۴۱ شام

لندن ( 92 نیوز) برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کے استعفے کے اعلان کے بعد نئے برطانوی وزیر اعظم کیلئے دوڑ شروع ہو گئی۔

تھریسا مے کے استعفیٰ کے  اعلان کے بعد کنزریٹو پارٹی کے نئے قائد کے لیے سخت مقابلے کی دوڑ شروع ہو گئی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق نئے برطانوی وزیر اعظم کیلئے دوڑ اس دوڑ میں سابق وزیر خارجہ بورس جانسن، وزیر بین الاقوامی ترقی روڑی سٹیورٹ، سابق وزیر برائے ورکس اینڈ پنشنز ایسٹر میک وے، وزیر صحت میٹ ہنکوک اور وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے باضابطہ طور پر شامل ہونے کی تصدیق کی ہے ۔

برطانوی میڈیا کے مطابق  سر گراہم  جو 1922 کمیٹی کی صدارت سے مستعفیٰ ہو گئے ہیں، سمیت ایک درجن سے زائد سنیئر کنزریٹو رہنما سنجیدگی سے مقابلے میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔

ٹوری قائد کا انتخاب فیصلہ کرے گا کہ برطانیہ کا نیا وزیر اعظم کون ہو گا۔

بریگزٹ کے معاملے میں ان امیدواروں میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے، روڑی سٹیورٹ کہتے ہیں کہ وہ بورس جانسن کے منتخب ہونے کی صورت میں ان کے زیر نگرانی کام نہیں کرے گے کیونکہ وہ بغیر کسی ڈیل کے بھی یورپی بونین سے انخلاء کے حامی ہیں ۔

وزیر صحت میٹ ہنکوک کا کہنا ہے تھریسا مے کے جانشین کو پارلیمنٹ سے ڈیل حاصل کرنے کے لیے سفاکانہ حد تک ایماندار ہونا پڑے گا۔

ٹوری ایم پیز کے پاس مقابلہ کے لیے اپنا نام پیش کرنے کے لیے 10 جون تک کا وقت ہے، اس مقابلے میں شرکت کرنے والے ہر امیدوار کو دو پارلیمانی ساتھیوں کی حمایت حاصل ہونی چاہئے ۔

امیدوار مسلسل خارج ہوتے جائیں گے جب تک دو امیدوار باقی نہیں رہ جاتے، جس کے بعد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار کنزریٹو ممبرز جولائی میں نئے قائد کا انتخاب کرے گے۔

تازہ ترین ویڈیوز