نئی دہلی میں پُرتشدد کارروائیوں میں 23 افراد ہلاک، 200 سے زائد زخمی ہوگئے


نئی دہلی ، پُرتشدد کارروائیوں ، 23 افراد ہلاک ، 200 سے زائد زخمی ، 92 نیوز
۲۶ فروری, ۲۰۲۰ ۹:۰۴ شام

نئی دہلی (92 نیوز) بی جے پی کی مسلم دشمن پالیسیوں نے دارالحکومت کو آگ میں جھونک دیا، بی جے پی کے بلوائیوں کے ہاتھوں 23 جان کی بازی ہار گئے۔

مودی کی انتہاپسند پالیسیوں کے باعث بھارت میں اقلیتوں کا جینا محال ہوگیا، دارالحکومت میں بھی مسلم آبادی محفوظ نہ رہی، چن چن کر مسلمانوں کو قتل کیا جانے لگا۔ دہلی میں پُرتشدد کارروائیوں میں 23 لوگ لقمہ اجل بن چکے، جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی دو سو سے تجاوز کرگئی ہے۔

بھارتی کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے تمام تر کشیدگی کا ذمے دار مرکز کو ٹھہرا دیا،، کہتی ہیں بی جے پی لیڈروں نے نفرت کا ماحول پیدا کیا، بہترگھنٹے تک جان بوجھ کارروائی نہیں کی گئی، انہوں نے وزیرداخلہ امیت شاہ سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کردیا۔

ادھر دہلی پولیس کا انتہاپسندانہ رویہ بھی کھل کر سامنے آچکا ہے،، جو سرعام اعلانات کرکے مسلمانوں کو ڈرا رہی ہے،، انہیں دکانیں بند کرنے اور باہر نہ نکلنے کا حکم دیا جارہا ہے۔

بلوائیوں کا ساتھ دینے پر نئی دہلی کے وزیراعلیٰ بھی پولیس سے نالاں ہیں،، اروند کیجریوال نے مرکز سے شہر میں فوج بھیجنے کا مطالبہ کیا، جسے بھارتی وزارت داخلہ نے مسترد کردیا۔

دوسری جانب تشدد معاملات پر دہلی ہائی کورٹ نے بھی پولیس کو خوب آڑے ہاتھوں لیا، پولیس نے بی جے پی رہنماء کپل مشرا کے خلاف ٹھوس ثبوت نہ ہونے کا دعویٰ کیا، جس پر عدالت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کپل مشرا  کی ویڈیو ہر چینل پر چل رہی ہے۔

ادھر  بھارتی سپریم کورٹ نے شاہین باغ دھرنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت بھی تئیس مارچ تک ملتوی کردی، عدالت کا کہنا تھا کہ دہلی مظاہروں کی وجہ سے سماعت کیلئے حالات سازگار نہیں۔

تازہ ترین ویڈیوز