Friday, May 14, 2021
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

مکی آرتھر سری لنکن بورڈ کے ہیڈ کوچ کیلئے فیورٹ، اعلان جلد ہوگا

مکی آرتھر سری لنکن بورڈ کے ہیڈ کوچ کیلئے فیورٹ، اعلان جلد ہوگا
December 4, 2019
کوالمپور ( 92 نیوز) پاکستان کرکٹ کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر سری لنکن بورڈ کے ہیڈ کوچ کے عہدے کیلئے فیورٹ قرار ، اعلان جلد ہو گا۔ سری لنکن ٹیم کے ساتھ پاکستان بھی آئیں گے ۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ مکی آرتھر  کو دو سال کے لئے ہیڈ کوچ بنانے پر رضا مند ہو گیا ،  سری لنکن بورڈ جلد مکی آرتھر کو باقاعدہ کوچ بنانے کا اعلان کرے گا۔ مکی آرتھر چھ مئی 2016 کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر کیے گئے تھے اور اس وقت یہ عہدہ سابق فاسٹ بولر وقار یونس کے جانے سے خالی ہوا تھا۔ مکی کا نام کوچ تلاش کرنے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے تجویز کیا تھا جس میں رمیز راجہ اور وسیم اکرم شامل تھے۔ مکی پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بننے سے قبل سنہ 2005 سے سنہ 2010 تک جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے کوچ رہے تھے۔اس عرصے میں جنوبی افریقی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر رہی تھی لیکن انھیں کپتان گریم اسمتھ کے ساتھ اختلافات کے سبب عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ وہ سنہ 2011 سے سنہ 2013 تک آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کوچ بھی رہے لیکن اس دوران آسٹریلوی کرکٹرز کے ساتھ بھی ان کے اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ جب مکی آرتھر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ بنے اس وقت پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کی باگ ڈور مصباح الحق کے ہاتھوں میں تھی جنھوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا اختتام پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے کیا تھا۔ مصباح الحق کے جانے کے بعد سرفراز احمد کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم زیادہ کامیابیاں حاصل نہ کر سکی یہی وجہ ہے کہ مکی آرتھر بھی تنقید کا نشانہ بنتے رہے کہ وہ ٹیم کے لیے موثر حکمت عملی ترتیب دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ٹیسٹ کے مقابلے میں پاکستانی ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی میں کارکردگی بہت اچھی رہی اور سرفراز احمد کی قیادت میں یہ ٹیم عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر جا پہنچی۔ ون ڈے انٹرنیشنل میں مکی آرتھر کے نام کے آگے چیمپینز ٹرافی کی جیت درج ہے لیکن ون ڈے انٹرنیشنل میں بطور پاکستانی کوچ مکی آرتھر کا مجموعی ریکارڈ غیر متاثر کن ہے کیونکہ ان کے دور میں کھیلے گئے 66 ون ڈے میچوں میں سے پاکستانی ٹیم صرف 29 میچ جیتنے میں کامیاب ہو سکی، 34 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور تین میچ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔