منی بجٹ میں حکومت کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو سہارا دینے کیلئے مراعات کا فیصلہ


منی بجٹ
۱۴ جنوری, ۲۰۱۹ ۱۰:۵۴ دن

اسلام آباد ( 92 نیوز)کمزور معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کی جانب سے بڑے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے  منی بجٹ میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو سہارا دینے کیلئے  مراعات دینے کا فیصلہ کرلیا ۔

حکومت اورسی پیک منصوبوں کے شیئر بھی پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ  حکومت کی جانب سے 0.02 فیصدایڈوانس ٹیکس شیئرزکی خرید وفروخت ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جبکہ تین سال تک کیپٹل خسارے کو آگے لے جانے کی اجازت ہوگی۔

حکومت نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے تمام مطالبات مان لئے، اعلان 23 جنوری کو قومی اسمبلی میں منی بجٹ میں کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے چند روز قبل 23 جنوری کو منی بجٹ لانے کا اعلان کیا تھا ، ذرائع کے مطابق ڈبہ بند  خوراک اور ادویات مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے ، منی بجٹ میں ٹیکس رولز میں نمایاں تبدیلیاں  کرنے کی تجویز ہے ، کسی بھی آئٹم کو اشیائے تعیش میں شامل کرکے ڈیوٹی بڑھائی جا سکے گی۔

منی بجٹ میں  ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ اور ٹیکس  مراعات میں کمی کا امکان ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی  میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ ذرائع کے مطابق منی بجٹ میں اسٹاک سرمایہ کاروں کو کیپٹل گین ٹیکس میں کمی کی صورت میں اچھی خبر ملنے کا امکان ہے۔

نان فائلرز کو بینک ٹرانزیکشنز اور گاڑیوں کی خریداری میں رعایت ملنے کی  بھی توقع ہے

دوسری طرف ٹیکس وصولیاں بڑھانے اور درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لئے موبائل فونز سمیت دیگر الیکٹرانکس آئٹمز ،کاسمیٹکس ،کھانے پینے کی اشیاءگاڑیوں اور دیگر لگژری آئٹمز پر ٹیکسوں میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں درآمدی اشیاءمزید مہنگی ہوجائیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 23 جنوری کو پیش کیا جانے والا منی بجٹ حقیقی بجٹ ہو گا، اس سے قبل دس سال تک  پیش کئے جانے والے بجٹ  جعلی تھے ۔

تازہ ترین ویڈیوز