منی بجٹ ، فائلرز کیلئے ودہولڈنگ ٹیکس ختم، 5 ارب کی قرض حسنہ اسکیم کا اعلان


منی بجٹ
۲۳ جنوری, ۲۰۱۹ ۹:۱۰ شام

اسلام آباد ( 92 نیوز) حکومت نے منی بجٹ میں بینکنگ ٹرانزیکشنز پر فائلرز کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے اور گھر بنانے کے لیے عوام کو قرض حسنہ فراہم کرنے کے لیے پانچ ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

وفاقی وزیرخزانہ نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا، انہوں نے منی بجٹ کو حکومت کا اصلاحات پر مبنی نیا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ریٹرنز فائل نہ کرنے والے افراد زیادہ ٹیکس دے کر 1300 سی سی تک گاڑی خرید سکیں گے۔

بجٹ میں ٹیکس کی کمی کا اعلان

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے نئے بجٹ میں کسانوں کے لئے بھی بڑی خوشخبری سنائی، زرعی قرضوں پر ٹیکس میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے اعلان کیا کہ جے آئی ٹی سی کی اسکیم لا رہے ہیں جس سے یوریا کی قیمت میں دو سو روپے فی بوری کمی ہوگی۔ ڈیزل انجن پر بھی ڈیوٹی 17 سے کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی۔

بجٹ میں کسانوں ، صنعت کاروں کے لئے ٹیکسوں میں چھوٹ کا اعلان کیا گیا ، اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا اعلان جبکہ زرعی قرضوں پر ٹیکس میں کمی کا اعلان بھی کیا گیا ۔ چھوٹے گھروں کی تعمیر کے لیے بھی آدھا ٹیکس ہو گا۔

وزیر خزانہ نے صنعت کاروں کو بھی خوش خبری سنائی، انہوں نے صنعتوں میں استعمال ہونے والے خام مال پر ڈیوٹی میں کمی کا اعلان کیا

، صرف یہی نہیں بیرون ملک سے مشینری لانے والی فیکٹریوں کو ٹیکس سے استشنیٰ کا اعلان کیا اور کہا کہ پانچ سال تک نئے پراجیکٹس پر کسٹم ڈیوٹی ، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس بھی ختم کیا جا رہا ہے۔

اسد عمر نے  کہا کہ چھوٹے شادی ہالز پر ٹیکس 20 ہزار سے کم کر کے 5 ہزار کر دیا گیا ہے جبکہ 5 ارب روپے کے قرضہ حسنہ کی اسکیم لانے کا اعلان بھی کیا۔

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے نان فائیلرز کے لیے بھی ایک خوشخبری سنائی کہ نان فائیلر اب 1300 سی سی تک کی گاڑی خرید سکے گا لیکن اسے ٹیکس زیادہ دینا پڑے گا، نئے بجٹ میں سستے ٹیلی فون پر ٹیکس کی شرح میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات میں اضافہ ہوا اس لئے کاروبار کے لئے بینکوں سے لئے گئے قرضوں پر آدھا ٹیکس بھی ختم کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں انہوں نے ٹیکس فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس اور اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ پر ودہولڈنگ ٹیکس بھی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ نان بینکنگ کمپنیوں کا سپر ٹیکس ختم اور ایک فیصد سالانہ اورکارپوریٹ ٹیکس پر کمی کی نوید سنائی۔انہوں نے نیوز پرنٹ کی امپورٹ پر استثنیٰ کا اعلان بھی کر دیا۔

بجٹ میں ٹیکس کے اضافے کا اعلان

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے اٹھارہ سو سی سی سے بڑی امپورٹڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔

نئے بجٹ میں مہنگے درآمدی فونز اور سیٹلائیٹ فونز پر سیلز ٹیکس  میں اضافے کا اعلان کیا گیا۔جس کے مطابق 30 ڈالر سے کم قیمت کے موبائل پر سیلز ٹیکس 150 روپے ہوگا جب کہ 30 سے 100 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر 1470 روپے سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ سال میں دو مرتبہ ودہولڈنگ ٹیکس کی اسٹیمنٹ  جمع کرانا ہوگی۔

آئی ایم ایف جانے کا عندیہ

بجٹ تقریر کے آخر میں وفاقی وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا درپیش معاشی مسائل  کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے مگر یہ آخری پروگرام ہو گا۔

اسد عمر کی اپوزیشن جماعتوں پر تنقید

تقریر کے دوران وزیر خزانہ اسد عمر نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میرے دائیں جانب والوں کے پاس پچھلے دس اور پانچ سال حکومت تھی، یہ عوام کے لیے کیا چھوڑ کر گئے؟ آج سے دو سال پہلے معاشی ماہرین نے خطرے کی نشاندہی کی، حکومت کو آگے الیکشن نظر آرہا تھا اس لیے انہوں نے بجائے اصلاح کے الیکشن خریدنے کی کوشش کی، انہوں نے اپنا بنایا بجٹ خسارہ ہی 900 ارب سے زیادہ بڑھادیا، اب وہ پیسہ کہاں سے آئے گا؟ کیا سوئس بینک سے آئے گا؟ اب وہ قرضہ عوام نے ادا کرنا ہے۔

اسد عمر نے (ن) لیگ کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے نظام میں ایسی تباہی لائے کہ ملکی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوئی، ایک سال میں ساڑھے 400 ارب کا خسارہ ہوا، گیس کے نظام میں کبھی خسارہ نہیں ہوا انہوں نے وہ بڑھا کر ڈیڑھ سو ارب تک پہنچادیا، اسٹیل مل، پی آئی اے، ریلوے سب کا خسارہ اپنی جگہ ہے، یہ قوم کو ڈھائی سے تین ہزار ارب کا مقروض کرگئے۔

مسلم لیگ (ن) کا حکومت سے منی بجٹ لانے کی وجوہات پیش کرنے کا مطالبہ

واضح رہے کہ اس سے قبل 21 جنوری کو منی بجٹ پیش کرنے کا پلان تھا، تاہم وزیراعظم عمران خان کے دورہ قطر کے سبب اس کی تاریخ آگے بڑھا دی گئی۔

رواں ماہ 12 جنوری کو کراچی میں صنعتکاروں سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا تھا کہ منی بجٹ میں ٹیکس بے ضابطگیوں کو دور کیا جائے گا جبکہ ٹیکسوں کے حوالے سے ہر قسم کی تبدیلی پارلیمنٹ کی منظوری سے ہوگی۔

اسد عمر نے مزید بتایا تھا کہ 23 جنوری کو پیش کیے جانے والے فنانس بل میں کاروبار میں آسانیاں اور سرمایہ کاری کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

تازہ ترین ویڈیوز