منشیات برآمدگی کیس ، رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں پندرہ روز کی توسیع


رانا ثنا اللہ ، جسمانی ریمانڈ ، ملزم ، ضمانت ، حقدار ، لاہور ہائیکورٹ
۱۸ اکتوبر, ۲۰۱۹ ۱۲:۴۱ شام

لاہور (92 نیوز) منشیات برآمدگی کیس میں رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں پندرہ روز کی توسیع کر دی گئی۔ عدالت نے اے این ایف کی فرد جرم عائد کرنے اور جلد سماعت کی درخواست مسترد کر دی۔

انسداد منشیات عدالت میں رانا ثناء اللہ کی پیشی ہوئی۔ 15 کلو منشیات سمگلنگ کے جرم میں گرفتار سابق صوبائی وزیر قانون کے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے ڈیوٹی جج خالد بشیر نے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15 روز کی توسیع کر دی ۔

دوران سماعت رانا ثناءاللہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہمارا مطمہ نظر ہے کہ ایک کیس میں عموماً ایک پراسیکیوٹر ہوتا ہے۔ میرے موکل نے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو گن پوائنٹ پر راوی ٹول پلازہ سے تھانے لیجانے کا بیان دیا ۔ ہمیں رانا ثناء اللہ کے موبائل فون کال کا ڈیٹا  فراہم نہیں کیا جا رہا،عدالت متعلقہ حکام کو راوی ٹول پلازہ سے اے این ایف تھانے کا ریکارڈ فراہمی کرنے کے علاوہ تفتیشی افسر کا موبائل ڈیٹا  فراہم کرنے کا حکم دے۔

اے این ایف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پہلے ملزم کا سی ڈی آر اور اب تفتیشی کے فون کا ریکارڈ طلب کیا جا رہا ہے۔ ہمارا مقدمہ سیدھا ہے۔ عدالت ہماری درخواست کے مطابق فرد جرم عائد کر کے روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل شروع کرنے کا حکم دے۔

دوران سماعت رانا ثناء اللہ کے مبینہ کارکن کی جانب سے عدالت میں ویڈیو ریکارڈنگ کا انکشاف ہوا جس پر پراسکیوشن نےاعتراض کرتے ہوئے کہا کہ   موبائل فون کمرہ عدالت میں آن کیسے ہوئے ہیں۔

رانا ثناءاللہ کے وکلاء کا کہنا تھا کہ یہ وکیل ہمارے ساتھ نہیں ہیں، یہ لوگ پراسکیوشن کی طرف سے آئے ہیں جبکہ ویڈیو  بنانے والا شخص نے عدالت کو بتایا کہ وہ رانا ثناءاللہ کا ساتھی ہے جس پر معزز جج کی جانب سے ایسا کرنے سے منع کیا گیا۔

تازہ ترین ویڈیوز