ملک بھر میں ضمنی انتخابات 14 اکتوبر کو ہونگے ، الیکشن کمیشن کی تیاریاں مکمل



۱۲ اکتوبر, ۲۰۱۸ ۱۲:۳۷ شام

اسلام اباد (92 نیوز) ملک بھر میں ضمنی انتخابات 14 اکتوبر کو ہونگے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے 36 حلقوں میں ضمنی انتخاب کا میدان سجے گا۔ الیکشن کمیشن نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

ملک بھر میں قومی اسمبلی کے گیارہ اور صوبائی اسمبلیوں کے 25 حلقوں میں پولنگ ہو گی۔ 36 حلقوں میں سے 18 حلقےایسے ہیں جو تحریک انصاف نے خالی کیں۔ ن لیگ کی طرف سے 4 ق لیگ کی طرف سے دو اور اے این پی، بی این پی مینگل پیپلزپارٹی کی طرف سے ایک ایک نے نشست خالی ہوئی۔

صرف ایک نشست رکھنے کے قانون کیوجہ سے عمران خان نے این اے 35 بنوں، این اے 53 اسلام آباد ، این اے 131 لاہور اور این اے 243 کراچی کی نشستیں چھوڑ دیں تھیں۔

اسی طرح تحریک انصاف کے میجر طاہر صادق نے این اے 56 اٹکٹ اور غلام سرور خان نے این اے 63 راولپنڈی کی نشستیں چھوڑیں۔

ق لیگ کے پرویز الہی نے این اے 65 چکوال اور این اے 69 گجرات کی سیٹیں چھوڑیں تو ن لیگ کے حمزہ شہباز نے این اے 124 لاہور کی نشست چھوڑی تھی۔

قومی اسمبلی کے دو حلقے این اے 60 راولپنڈی اور این اے 103 پر مختلف وجوہات کیوجہ سے پولنگ نہیں ہوئی تھی۔

پنجاب اسمبلی کی 13 نشستوں پر پولنگ ہو گی جن میں سے 6 حلقے ایسے ہیں جو تحریک انصاف کے امیدواروں کی جانب سے خالی ہوئے ن لیگ کی طرف سے تین اور ایک نشست آزاد امیدوار کی طرف سے خالی ہوئی۔ پنجاب اسمبلی کی تین نشستوں پر انتخاب نہیں ہو سکا تھا۔

خیبرپختونخواہ اسمبلی کی 9 نشستوں پر انتخاب ہو گا جن میں سے تحریک انصاف کی طرف سے چھ اور اے این پی کی طرف سے ایک نشست خالی ہوئی تھی اور دو نشستوں پر انتخاب نہیں ہو سکا تھا۔

بلوچستان اور سندھ اسمبلی کے دو دو حلقوں میں پولنگ ہو گی جن میں سے سندھ اسمبلی کی ایک نشست پیپلزپارٹی اور بلوچستان اسمبلی کی ایک نشست بی این پی مینگل نے خالی کی تھی جبکہ دونوں اسمبلیوں کی ایک ایک نشست پر پولنگ نہیں ہوسکی تھی۔

قومی اسمبلی کے گیارہ اور پنجاب اسمبلی کے تیرہ  حلقوں کے نتائج سے موجودہ اسمبلی کی پارٹی پوزیشن تبدیل ہو جائے گی۔ تحریک انصاف نے اگر اپنی چھوڑی ہوئی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو تحریک انصاف کی پوزیشن مزید مستحکم ہوجائے گی تاہم ن لیگ کی کامیابی سے تحریک انصاف کو مشکل پیش آسکتی ہے۔



تازہ ترین ویڈیوز