مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا مسلسل 12 واں روز ، کشمیری بدستور گھروں میں محصور

مقبوضہ کشمیر امریکی کانگریس واشنگٹن ‏ ‏92 نیوز ڈیمو کریٹک پارٹی تھامس آر سوزی وزیر خارجہ ‏ مائیک پومپیو ‏ نریندر مودی ‏
۱۶ اگست, ۲۰۱۹ ۱:۱۱ شام

 سرینگر (92 نیوز) مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور پابندیوں کا مسلسل 12 واں روز  ہے۔ کشمیری بدستور گھروں میں محصور ہیں۔ اشیائے خورونوش کی شدید قلت ہے، لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ مسلسل کرفیو کو بارواں روز ہو گیا ہے۔ مقبوضہ وادی دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بن چکی ہے۔

وادی کے چپہ چپہ پر بھارتی فورسز تعینات ہیں۔ مواصلاتی نظام کی بندش نے مظلوم کشمیریوں کا پوری دنیا سے رابطہ کاٹ دیا ہے۔ مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو نے اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پیدا کر دی ہیں جبکہ ادویات بھی دستیاب نہیں ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے نے کشمیری عوام میں شدید غصہ بھر دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سری نگر کے علاقے صورا میں نماز کے بعد لوگوں نے باہر نکل کر شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ایک بزرگ کمشیری کا کہنا تھا کہ مودی کو بولو کہ پہلے کرفیو اٹھاو اس کے بعد دیکھو آرٹیکل 370 رہتا ہے کہ نہیں۔

ایک اور کشمیری نوجوان کا کہنا تھا کہ ہمیں آزادی چاھیے اور ہم لیں گے۔ ایک کشمیری نوجوان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنا حق چاھیے جو آزادی ہے۔

دوسری جانب  حریت فورم، سول سوسائٹی اور دوسرے گروپس نے کشمیری عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ وادی کشمیر، جموں، کارگل ہر جگہ سے لوگ باہر نکلے اور اپنی حق خودارایت کی آواز کو بلند کرے۔

تازہ ترین ویڈیوز