مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو کا مسلسل 13 واں روز، کشمیری گھروں میں محصور

مقبوضہ کشمیر
۱۷ اگست, ۲۰۱۹ ۸:۱۹ دن

 سرینگر (92 نیوز) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، کرفیو اور قید و بند کا مسلسل 13 واں روز ہے۔ گھروں میں محصور نہتے کشمیری فاقوں پر مجبور ہیں۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔ کشمیریوں کا مسلسل تیرہویں روز بھی بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ جنت نظیر وادی دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بن چکی ہے۔

وادی کے چپہ چپہ پر بھارتی فورسز تعینات ہیں۔ مواصلاتی نظام بدستور بند ہیں۔ مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو نے اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پیدا کر دی ہیں جبکہ ادویات بھی دستیاب نہیں ہیں۔

بھارت نواز سیاستدانوں سمیت نو سو سے زائد سیاسی رہنما اور کارکن گھروں میں نظر بند یا جیلوں میں ہیں۔ بھارتی فوج نے مسلمان ایم ایل اے وارث پٹھان کو بھی گرفتار کر لیا۔

وارث پٹھان کا جرم یہ تھا کہ وہ نماز جمعہ کے بعد کشمیریوں  کیلئے دعا مانگ  رہے تھے جس پر انہیں حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ کشمیریوں کا غیر ملکی خبر ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  ہمیں نماز پڑھنے نہیں دیا  جاتا۔

دوسری جانب  حریت فورم، سول سوسائٹی اور دوسرے گروپس نے کشمیری عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ وادی کشمیر، جموں، کارگل ہر جگہ سے لوگ باہر نکلیں اور اپنی حق خودارایت کی آواز کو بلند کریں۔

تازہ ترین ویڈیوز