مصر میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی

مصر ‏ قاہرہ ‏ ‏92 نیوز ‏ صدر عبدالفتح السیسی ‏ سوئز ‏ 92 نیوز 92 news
۲۲ ستمبر, ۲۰۱۹ ۱۰:۰۹ شام

قاہرہ ( 92 نیوز )  مصر میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی ،  صدر عبدالفتح السیسی کی کرسی کو مشکلات بڑھ گئیں ،ساحلی شہر سوئز میں پولیس کا مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا بھرپور استعمال کیا جب کہ  آنسو گیس کی شیلنگ اور براہ راست فائرنگ سے تین افراد زخمی ہوگئے ،میڈیا کو مظاہروں کی کوریج سے روک دیا گیا۔

ایک اور سوشل میڈیا کال پر جمعہ کے روز سے شروع ہونے والی ایک اور تحریک  مصر بھر میں پھیلنے لگی ،  ساحلی شہر سوئز میں مسلسل دوسرے روز بھی سیکڑوں افراد احتجاج کرتے سڑکوں پر نکل آئے ، مظاہرین صدر عبدالفتح السیسی سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مصر میں حکومت  احتجاج کو روکنے کیلئے طاقت کا بھرپور استعمال کررہی ہے ، مظاہرین کو نہ صرف آنسو گیس سے نشانہ بنایا گیا بلکہ ان پر براہ راست فائرنگ بھی کی گئی ، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

میڈیا کو بھی مظاہروں کی کووریج سے روک دیا گیا ہے ، اب تک صحافیوں سمیت 70 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ احتجاج کا اثر مصر کی سٹاک ایکسچینج پر بھی پڑا ہے ، جہاں آج صرف 30منٹ کاروبار ہوا ، ای ی ایکس ہنڈرڈ انڈیکس پانچ فیصد گرتے ہی ٹریڈنگ کو روک دیا گیا۔

مصر میں یہ احتجاج جلا وطن کاروباری شخصیت محمد علی کی سوشل میڈیا کال پر شروع ہوئے ، جس میں انھوں نے حکومت پر سرکاری خزانے میں خوردبرد کا الزام عائد کیا تھا ، تاہم صدر السیسی نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔

عرب ممالک میں انقلاب کا آغاز 2010 میں تیونس سے ہوا تھا ، سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی یہ تحریک 2011 میں مصر پہنچی جہاں 30 برس سے حسنی مبارک حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے۔

حسنی مبارک کے دور میں کہیں بھی پانچ سے زیادہ افراد اکٹھا نہیں ہوسکتے تھےلیکن آمریت سے تنگ آئی عوام جب سڑکوں پر نکلی تو حکومت میں بھونچال آگیا ، دارالحکومت قاہرہ کا تحریر سکوائر جمہوریت پسند لوگوں کا ٹھکانہ بن گیا۔

صرف اٹھارہ روز کا احتجاج صدر حسنی مبارک کو شکست تسلیم کرانے میں کامیاب ہوگیا ، گیارہ فروری 2011 میں انھوں نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

حسنی مبارک کے بعد 24 جون 2012 کو صدارتی انتخابات ہوئے جن میں کامیابی کے بعد مذہبی تنظیم اخوان المسلمین کے امیدوار محمد مرسی ملک کے پانچویں صدر منتخب ہوئے لیکن ان کا اقتدار ایک سال ہی قائم رہ سکا۔

محمد مرسی ‏
محمد مرسی ‏

حکومتی اقدامات سے ناخوش عوام ایک بار پھر 2013 میں سڑکوں پر نکلے جس پر فوجی جرنیل عبدالفتح السیسی نے حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ایک سال بعد ہی حلف اٹھا کر ملک کے چھٹے صدر بن گئے۔

عبدالفتاح السیسی
عبدالفتاح السیسی

السیسی حکومت نے اخوان المسلمین کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کیا تنظیم کو دہشتگرد قرار دے دیا گیا ، محمد مرسی سمیت تمام قیادت اور ہزاروں کارکنوں کو پابند سلاسل کردیا گیا ، محمد مرسی رواں برس 17 جون کو عدالتی سماعت کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

چھ سال بعد ملک میں ایک بار پھر عوامی تحریک سر اٹھا رہی ہے جس کا نشانہ کوئی اور نہیں خود عبدالفتاح السیسی ہیں جنھوں نے اسی احتجاج کی بنیاد پر اقتدار سنبھالا تھا۔

تازہ ترین ویڈیوز