مریم نواز کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ


وفاقی کابینہ ، مریم نواز ، بیرون ملک ، اجازت ، انکار
01 اگست, 2019 6:42 شام

 اسلام آباد (92 نیوز) مریم نواز کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ فیصلہ 27 اگست کو سنایا جائے گا۔

مریم نواز کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کی۔

ن لیگ کے وکیل نے دلائل میں کہا ملیکہ بخاری کی درخواست ناقابل سماعت ہے۔ الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے پارٹی الیکشن نہیں۔ قانون کے مطابق صرف پارٹی الیکشن چیلنج ہو سکتا ہے ۔ پارٹی کی جانب سے کی گئی نامزدگیاں نہیں۔

ملیکہ بخاری کے وکیل نے کہا ن لیگ نے تاحال مریم کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جمع نہیں کرایا۔ ٹوئٹر پر تعیناتی سے آگاہ کیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا ٹویٹر قابل قبول شواہد ہے؟ اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ ۔ وکیل نےکہا اب تو ٹوئٹر پر طلاق بھی ہو جاتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر  بولے ٹوئٹر کے حوالے سے باضابطہ قانون ہے تو دکھائیں۔

ملیکہ بخاری کے وکیل کا کہنا تھا  مریم نواز نیب عدالت سے سزا یافتہ ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزا معطل کر دی۔

چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ سزا معطل کرنے سے بہتر ہے عدالتیں بری کر دیا کریں۔ یہ کونسا قانون ہے کہ اپیل میں سزا ہی معطل کر دی جائے۔

وکیل حسن مان نے کہا سپریم کورٹ نے قرار دیا سزا معطل ہونے سے جرم ختم نہیں ہوتا۔ اگر مریم نواز اپیل میں بری ہوئی تو عہدے پر واپس آ سکتی ہیں۔

مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا الیکشن کمیشن نااہلی کی درخواست پر سماعت کر سکتا ہے ۔ کمیشن یہ نہ کہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا پابند ہے۔

دلائل مکمل ہونے پر کمیشن نے درخواست پر فیصلہ محفوظ  کرلیا جو 27 اگست کو سنایا جائے گا۔

تازہ ترین ویڈیوز