محکمہ ایکسائز پنجاب کی نئے مالی سال میں 50فیصد ٹیکس اضافہ کی تیاری

۱۲ جون, ۲۰۱۹ ۱۰:۱۵ دن

لاہور( روزنامہ 92 نیوز) محکمہ ایکسائز پنجاب نے آئندہ مالی سال 20-2019 کے بجٹ پروفیشنل ٹیکس کی بعض کیٹیگری میں تبدیلی کرکے ان میں 50فیصد تک اضافہ کی تجویز تیار کر لی ہے ۔

امپورٹڈ گاڑیوں پر عائد لگژری ٹوکن ٹیکس کو  ختم کرنے اور بیوہ خاتون کے بعد طلاق یافتہ دیگر خواتین کے نام پراپرٹی ہونے پر 12ہزار800روپے ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز دی گئی ہے ۔

پنجاب ہائی ویز مین روڈ پر تعمیر ہونے والی کمرشل اور دیگر عمارتوں کو بھی ٹیکس سسٹم میں شامل کرنے کی تجویزسمیت دیگر تجاویز تیار کر لیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائزحکام نے آئندہ مالی سال  20-2019 کے بجٹ کے لیے اپنی تجاویز تیار کر لی ہیں جس میں گزشتہ سال کی نسبت 10ارب روپے سے زائد کی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ محکمہ ایکسائر کی پٹرول پر کاربن ٹیکس کی وصولی کی تجویز کو روک دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے اور اس پر اگلے سال غور کیا جائے گا ۔

اسی طرح ٹوکن ٹیکس اور امپورٹڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن اسلام آباد ایکسائز آفس میں روکنے کے لیے تجویز دی گئی ہے کہ امپورٹڈ گاڑیوں پر لگایا گیا لاکھوں روپے کا لگژری ٹیکس ختم کر دیا جائے تاکہ شہری اسلام آباد کے بجائے محکمہ ایکسائز پنجاب کے دفاتر سے امپورٹڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کروا سکیں اس سے محکمہ ایکسائز کی آمدن میں کروڑوں روپے کا اضافہ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق ایکسائز حکام نے شہریوں کی سہولت کے لیے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن پر ارجنٹ فیس کا نظام بھی متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت گاڑی کی ارجنٹ رجسٹریشن کرانے کی صورت میں عام فیس کے ساتھ 1ہزار روپے اضافی فیس لی جائے گی جبکہ بڑی گاڑی پر 2ہزار روپے اور موٹر سائیکل پر 200روپے سپیڈ منی کے نام پر وصول کئے جائیں گے جس کے تحت 48گھنٹوں میں تما م دستاویزات گاڑی مالکان کو فراہم کر دی جائیں گی۔

خواتین کے نام پراپرٹی پر 12800روپے چھوٹ دینے کی تجویزگوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون ایم پی اے شاہین رضا نے دی تھی اور انہوں نے حکومتی سطح پر بھی اس پر آواز اٹھائی تھی ۔

تازہ ترین ویڈیوز