متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کیخلاف مظاہرے پورے بھارت میں پھیل گئے


مسلمان مخالف متنازعہ شہریت ترمیمی قانون نئی دہلی ‏ ‏92 نیوز مسلمان مخالف ‏ ہندو نواز ‏ متنازعہ شہریت ‏ کلکتہ گلبارگا مہاراشٹرا ممبئی سولاپور پونے ناندت بھوپال جنوبی بنگلور ‏ کانپور احمد آباد لکھنو سرت مالاپورم
۱۶ دسمبر, ۲۰۱۹ ۱:۲۸ شام

نئی دہلی (92 نیوز) مسلمان مخالف  ہندو نواز متنازعہ شہریت ترمیمی قانون  کیخلاف مظاہرے پورے بھارت میں پھیل گئے، بھارتی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا مظاہرین پر بہیمانہ تشدد، لاٹھیاں اور گولیاں برسا دیں، بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ پیدا ہو گیا ۔  حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک کہتی ہیں مودی خوف اور نفرت کی علامت بن چکاہے۔

دنیا کے سامنے فاشسٹ ہٹلر مودی اور ہندو انتہا پسندی کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا ،  بھارت میں مسلمان  مخالف بل کیخلاف احتجاج بے قابو ہو گیا ،  مسلم آبادی کیساتھ دیگر قوموں کا بھی مودی سرکار کے خلاف گلی، گلی، شہر شہر احتجاج کر رہی ہیں ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کیخلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں جب کہ مودی کے پتلے نذرآتش کئے جا رہے ہیں ۔

بھارت میں کلکتہ، گلبارگا، مہاراشٹرا، ممبئی، سولاپور پونے، ناندت، بھوپال، جنوبی بنگلور ، کانپور، احمد آباد، لکھنو، سرت، مالاپورم، آراریہ، حیدرآباد ، گایا، اورنگ آباد، اعظم گڑھ، کالی کٹ، یوات مل، گووا، مظفر نگر میں عوامی سمندر سڑکوں پر آگیا ۔  دیوبند، جامعہ میں بھی مظاہرہ کیا گیا ۔

بھارتی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے  مظاہرین پر بہیمانہ تشدد کیا گیا ،  عورتیں، مرد، بچے سب پر بھارتی درندوں نے لاٹھیاں اور گولیاں برسا دیں ، عورتیں دہائیاں دیتی رہیں لیکن بھارتی پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ایک نہ سنی جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہو چکا ہے ۔

احتجاجی مظاہرین نے متنازعہ شہریت ترمیمی بل واپس لینے ، مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو بھارتی آئین کے مطابق مکمل حقوق دینے کا مطالبہ کردیا ۔

حریت رہنما مشعال ملک کہتی ہیں مودی نفرت کی علامت بن چکا ۔

بھارت میں مظاہرین نے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے اور ہر قربانی دینے کا عزم کا اظہار کیا ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز