لکھنو ، ہندو انتہا پسندوں کا دو کشمیریوں پر بہیمانہ تشدد


لکھنو
۰۷ مارچ, ۲۰۱۹ ۸:۱۵ دن

لکھنو ( 92 نیوز) مودی کے بھارت میں کشمیری ہونا بھی جرم ٹھہر گیا ۔

ہندو انتہا پسندوں نے دو کشمیریوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ۔

ہندو انتہا پسندوں نے خشک میوہ جات بیچنے والے دو کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا،انتہا پسندوں کا تعلق بی جے پی اور وشوا ہندو دل سے ہے ۔

راہگیروں کے پوچھنے پر انتہا پسندوں نے بتایا کہ دونوں کشمیری ہیں اس لئے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔

رد عمل

واقعے پر مقبوضہ کشمیر کےسابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ وزیرداخلہ پربرس پڑے۔

اپنے ٹوئیٹر پیغام میں انکا کہنا تھا کہ  راجناتھ سنگھ صاحب،لوک سبھامیں اس انتخابی مرکزکی نمائندگی کرتے ہیں،واجپائی صاحب بھی اس انتخابی مرکز سےمنتخب ہوئےاوروزیراعظم بنے،اگرکوئی اس معاملےمیں بھی آگےبڑھ کرانصاف فراہم نہیں کرےگاتوآپ مجرموں کوکیسےسزادیں گے؟۔

بھارت میں کشمیریوں پرزمین تنگ ہونےکایہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔

انتہاپسندوں نےدو کشمیری شال فروشوں کو ٹرین میں سفرکےدوران تشددکانشانہ بنایاتھا۔

ماضی میں درجنوں کشمیری طلباء اور اساتذہ کو تعلیمی اداروں سے بھی نکالاجاچکاہے۔

بھارت
بی جے پی کے غنڈوں نے نوجوان پرلاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی۔

دوسری جانب مودی کے نام نہاد سیکولر بھارت میں سوال کرنا بھی جرم بن گیا۔

مودی سرکار کے جھوٹے وعدوں پرسوال اٹھانے پر ہندو انتہا پسند آپے سے باہر ہوگئے۔

بی جے پی کے غنڈوں نے نوجوان پرلاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی۔

بھارتی حکمران جماعت کی غنڈہ گردی کی ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوگئی۔

تازہ ترین ویڈیوز