لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف کو علاج کیلئے باہر جانیکی اجازت دیدی

نوازشریف ، سزا ، معطلی ، درخواست ، سماعت ، 4 بجے ، ملتوی
۱۶ نومبر, ۲۰۱۹ ۵:۵۲ شام

لاہور (92 نیوز) لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے ہوئے انہیں علاج کیلئے چارہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی، جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق شہباز شریف اور نوازشریف نے انڈر ٹیکنگ دی ہے جو قبول کرلی گئی۔ جسٹس علی باقرنجفی نے کہا اگر انڈرٹیکنگ پر عمل نہ ہو تو توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ عدالت نےای سی ایل سے نام نکالنے کا چار صفحات کا تحریری حکمنامہ بھی جاری کر دیا۔ نائنٹی ٹو نیوز نےتحریری فیصلے کی کاپی حاصل کرلی۔

لاہور ہائیکورٹ، نوازشریف، علاج ، باہر جانیکی اجازت، لاہور، 92 نیوز
لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف کو علاج کیلئے باہر جانیکی اجازت دیدی

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے لیگی قائد نوازشریف کو علاج کے کیے بیرون ملک جانے کی اجازت کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے حکومتی وکلا کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم بھی دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اگر اس دوران نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہوتی تو چار ہفتوں کی مدت میں مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلےمیں لکھا شہبازشریف اور نوازشریف نے انڈر ٹیکنگ دی ہے اس لیے نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

اس سے قبل شہبازشریف نے تحریری انڈر ٹیکنگ جمع کرائی جس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ نواز شریف صحت مند ہوتے ہی وطن واپس آئیں گے، واپس آکر اپنے عدالتی کیسز کا سامنا کریں گے۔

ڈرافٹ کی کاپی وفاق کے وکلا کے حوالے کی گئی، تاہم وفاقی حکومت کے وکلا نے بیان حلفی کا مسودہ مسترد کردیا۔

جسٹس علی باقرنجفی نےریمارکس دیئے کہ بیان حلفی مناسب ہے لیکن شہبازشریف کے بیان میں سے سہولت کاری کو یقین دہانی سے بدل دیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے اشتر اوصاف علی کو بیان حلفی میں ترامیم کرنے کی ہدایت کر دی۔ شہبازشریف کی انڈرٹیکنگ کے بعد سرکاری وکلا نے بھی اپنا ڈرافٹ پیش کیا جسے شہبازشریف کے وکلا نے مسترد کردیا۔

جسٹس علی باقرنجفی نے ریمارکس دیئے کہ نوازشریف طبیعت بہتر ہونے پر کسی برگر شاپ میں نظر آئے تو کیا سرکاری وکیل یہ کہیں گے کہ وہ ٹھیک ہو گئے؟۔ جج کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسحاق ڈار بھی میڈیکل گراؤنڈز پر ہیں لیکن پھرتے نظر آتے ہیں۔ سرکاری وکیل کامؤقف تھا کہ شہبازشریف یہ لکھ دیں کہ اگر نوازشریف واپس نہیں آتے تو پھر کیا ہو گا؟ جسٹس سردارنعیم نے ریمارکس دیئے کہ ہوسکتاہے وہ ایک ہفتے میں ٹھیک ہو کر آجائیں۔ اشتراوصاف ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ہم چار ہفتے لکھ کر نہیں دے سکتے۔ حکومتی اور شہبازشریف کے وکلا کسی ایک ڈرافٹ پر متفق نہ ہو پائے تو عدالت نے خود ہی ڈرافٹ تیار کر کے فیصلہ سنا دیا۔ کیس کی دوبارہ سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے میں ہوگی۔

تازہ ترین ویڈیوز