لاہور ہائیکورٹ نے علیم خان کی ضمانت منظور کر لی

لاہور ہائیکورٹ نے علیم خان کی ضمانت منظور کر لی
۱۵ مئی, ۲۰۱۹ ۱:۲۵ شام

لاہور ( 92 نیوز ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر پنجاب  علیم خان کی لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت منظور کر لی۔

علیم خان کو  آف شور کمپنی اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں  نیب  لاہور نے  گرفتار  کیا تھا،  ترجمان نیب کے مطابق علیم خان کی گرفتاری آف شور کمپنیز اور آمدن سے زائد اثاثوں پر عمل میں لائی گئی  تھی ۔

علیم خان کوعید سے پہلے ہی عید جیسی خوشی مل گئی ، کوٹ لکھپت  جیل میں پابندسلاسل  پی ٹی آئی رہنما کی لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت منظورکرلی گئی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ، نیب کی جانب سےعلیم خان کے مشکوک بینک ٹرایکشنزاور سرمایہ کاری کی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئیں۔

نیب کے تفتیشی افسر نے بتایا علیم خان کے ذرائع آمدن اور اخراجات میں توازن نہیں،کئی ملین کے اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے ۔  علیم خان کے وکلاء نے کہا آمدن سے زائد اثاثے کا الزام غلط ہے،ان کے ذرائع آمدن ان کے اثاثوں سے زائد ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نےکہاعلیم خان نے 2002 میں الیکشن لڑا اس وقت ان کے اثاثے پانچ اعشاریہ چارملین تھے، وزیربننے کے بعدان کے اثاثوں میں اضافہ ہوا۔

علیم خان کے والدین کو باہر سے جو رقوم آئیں اب تک ان کا ثبوت نہیں دیا گیا، آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ بیرون ملک سے یہ رقوم کس نے بھیجیں۔

علیم خان کے وکیل کامؤقف تھا کہ یہ تمام رقم ریکارڈ میں ظاہر کی گئی ہے،نیب اور ایف بی آر کا ریکارڈہم نے ہی جمع کرایا تھا۔

علیم خان کو نیب کی جانب سے آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے الزام میں چھ فروری کو گرفتار کیا گیا تھا،نیب ابھی تک علیم خان کا ریفرنس عدالت میں دائر نہیں کرسکا۔

نیب نے علیم خان کو 6 فروری کو گرفتار کیا تھا ، گرفتاری کے بعد عبدالعلیم خان نے پنجاب کی وزارت بلدیات کا قلمدان چھوڑ کر وزیر اعلیٰ کو استعفیٰ ارسال کیاتھا۔

علیم خان کے دفتر پر نیب کا چھاپہ ، اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا

علیم خان 6 فروری 2019 سے 15 مئی 2019 تک 98 دن تک حراست میں رہے جن میں سے وہ 27 دن تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے جب کہ 71 دن تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں رہے ۔

نیب کے مطابق علیم خان  آمدن سے زائد اثاثہ جات اور آف شور کمپنیز کے قیام اور پیسوں کی منتقلی کے حوالے سے تحقیقات میں نیب کو مطمئن نہیں کرسکے۔

نیب نے علیم خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کر دی ‏

نیب کی جانب سے علیم خان کو 7 فروری کو احتساب عدالت لاہور پیش کیا گیا ، جہاں انہیں 9روزہ جسمانی ریمانڈ پر  نیب کے حوالے کیاگیا  ۔ 9 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد علیم خان کو 15 فروری کو دوبارہ احتساب عدالت لاہور پیش کیا گیا جہاں عدالت نے ان کے جسمانی ریمانڈ میں10 روز کی توسیع کی ۔

نیب نے 25فروری 2019 کو 10روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونےپر علیم خان کو ایک بار پھر احتساب عدالت پیش کیا جہاں عدالت نے ان کےجسمانی ریمانڈ  میں مزید 5 روز کی توسیع کر دی ۔

پانچ مارچ کو علیم خان کو احتساب عدالت پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں 15روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

ملک کو لوٹنے والے کس منہ سے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں ، علیم خان

دو اپریل کواحتساب عدالت نے علیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 11 دن کی توسیع کر دی ۔ جنہیں 11اپریل کو ایک بار پھر نیب کورٹ پیش کیا گیا جہاں ان کے جسمانی ریمانڈ میں  20 اپریل تک کی توسیع کی گئی ۔

علیم خان کو 20اپریل کو احتساب عدالت پیش کیا گیا جہاں عدالت نےانہیں 30 اپریل تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ کر دیا، 30 اپریل کو علیم خان ایک بار پھر عدالت پیش ہوئے جہاں ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں  13 مئی تک توسیع کی گئی ، جبکہ 13 مئی کو ایک بار پھر ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 27 مئی تک توسیع کی گئی ۔

علیم خان کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت کے لئے استدعا کی گئی تھی ، عدالت نے علیم خان کو 10،10 لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر لی ۔

تازہ ترین ویڈیوز