لافانی گیتوں کے خالق خواجہ خورشید انور کا آج یوم وفات منایا جا رہا ہے

۳۰ اکتوبر, ۲۰۱۸ ۹:۱۹ دن

لاہور (92 نیوز) ایک فلسفی نے موسیقی میں تخلیق کاری کی ایسی منطق طے کر دی کہ ان کے بعد کے موسیقاروں کے پاس دُھنوں میں دلیل دینا ممکن نہیں رہا۔ ان گنت، لافانی گیتوں کے خالق خواجہ خورشیدانور کا آج یوم وفات منایا جا رہا ہے۔

کلاسیقی فلمی موسیقی اور دھنوں کے دیوتا خواجہ خورشید انور اکیس مارچ انیس سوبارہ کو میانوالی میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے موسیقی کے خزانے سے لگاؤ نے انہیں لافانی موسیقار بنا دیا۔

مشرقی کلاسیکی موسیقی کا ادراک خواجہ خورشید انور سے زیادہ شاید ہی کسی اور فلمی موسیقار کو ہو۔ ایسی دُھن ترتیب دی کہ پہلے ہی گانے سے قصور کی اللہ رکھی نورجہاں بن کر سامنے آئی۔

منطق کے طالب علم خواجہ خورشیدانور نے دھنوں میں ایسی تخلیق کاری کی کہ انتظار، ہیر رانجھا اور کوئل جیسی فلمیں تخلیق کر ڈالیں۔

لافانی موسیقارخواجہ خورشید انور سُر اور ساز کے بے مثل بادشاہ تھے۔ ان کے گانوں نے برصغیر پاک و ہند کو اپنے سحر میں مبتلا کر دیا۔ موسیقی کے اس شہنشاہ کو حکومت پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

تازہ ترین ویڈیوز