فیاض الحسن چوہان معاملہ سلجھانے پی آئی سی پہنچے ، وکلاء نے تشدد کا نشانہ بنا دیا


فیاض الحسن چوہان ‏ پی آئی سی ‏ وکلاء لاہور ‏ ‏92 نیوز وزیر اطلاعات ‏
۱۱ دسمبر, ۲۰۱۹ ۶:۳۱ شام

 لاہور (92 نیوز) وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان وکلاء اور ڈاکٹروں کا معاملہ سلجھانے کے لئے پی آئی سی پہنچے مگر مشتعل وکلاء نے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

پی آئی سی کی ہنگامہ آرائی کے دوران صوبائی وزیر اطلاعات وکلا کے ہتھے چڑھ گئے۔ پھر وکلا نے اُن کے ساتھ اپنی مرضی کا سلوک کیا، انہیں بالوں سے پکڑ کر کھینچتے رہے۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ وکلا نے انہیں مارا پیٹا مگرجان ہتھیلی پر رکھ کر معاملہ نمٹایا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء نے مجھے اغواء کرنے کی کوشش کی ، وکلاء کی بہتری کے لئے یہاں آیا تھا ، ڈرنے والا نہیں ہوں ، تشدد کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

ادھر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی موقع پر پہنچیں تاہم ڈاکٹرز نے ان کے خلاف نعرے لگائے۔ صوبائی وزیر چیف ایگزیگٹو پی آئی سی کے کمرے میں محصور ہو گئیں تو ینگ ڈاکٹر نے کمرے کا گھیراؤ کر لیا۔ وہ باہر آئیں تو ڈاکٹرز نے پھر گھیراؤ کر لیا اور ان کے خلاف نعرے لگائے۔

وکلا کی ہنگامہ آرائی کا مقابلہ کرنے کے لئے اسپتال کے اندر بڑی تعداد میں موجود ڈاکٹرز نے بھی ڈنڈے اٹھا لیے۔ ینگ ڈاکٹرز نے اسپتال میں احتجاج کیا ، ان کا کہنا تھا کی حکومت کو فوج طلب کرنی چاہئے۔

دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارنے ایک ٹویٹر پیغام میں قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم دیا۔ عثمان بزدار نے کہا پنجاب حکومت ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔

ادھر فردوس عاشق نے کہا قانون ہاتھ میں لینے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ وکلا کا فیاض چوہان پر تشدد، مریضوں اور لواحقین کو ہراساں کرنا قابلِ مذمت ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا کہنا ہے واقعہ کی انکوائری ہو گی جو ذمہ دار ہوا، اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔ وکلا اور ڈاکٹرز کی صلح ہو چکی تھی جب تک انکوائری نہیں ہوتی، پتہ نہیں چلے گا۔

تازہ ترین ویڈیوز