عمر قید کی سزا 25برس یا تاحیات، سپریم کورٹ نے لارجر بینچ تشکیل دیدیا

عمر قید ‏ ‏25برس تاحیات سپریم کورٹ لارجر بینچ بینچ تشکیل اسلام آباد ‏ ‏92 نیوز تاحیات ‏ اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ جنرلز ‏ پراسیکیوٹر جنرلز ‏ نوٹس جاری ‏ اکتوبر ‏ ریمارکس ‏ غلط فہمی ‏ دن رات ‏ پانچ سال ‏ آصف سعید کھوسہ ‏ لارجر بینچ ‏ ہارون الرشید ‏ بنام اسٹیٹ مقدمہ ‏ ذوالفقار ملوکا ‏ دلائل
۲۹ جولائی, ۲۰۱۹ ۱۲:۴۹ شام

اسلام آباد ( 92 نیوز) عمر قید کی سزا 25 سال ہو گی یا تاحیات   ، مدت کے تعین کیلئے سپریم کورٹ نے  لارجر بینچ تشکیل دے دیا ۔ اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلز اور پراسیکیوٹر جنرلز کو نوٹس جاری  کرتے ہوئے  کیس اکتوبر کے پہلے ہفتے میں  مقرر کرنے کا حکم  دے دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے  کہ کیا یہ غلط فہمی نہیں عمر قید سزا کی مدت 25 سال ہے ، جب یہ پتہ نہیں زندہ کتنا رہنا ہے تو سزا کو آدھا کیسے کردیں ،سزا میں دن رات شمار کیے جاتے ہیں اور مجرم پانچ سال بعد باہر آجاتا ہے۔

معاملہ پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں لارجر بینچ تشکیل دے دیا ۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے عمرقید پر نوٹس ہارون الرشید بنام اسٹیٹ مقدمہ کی سماعت کے دوران لیا۔

وکیل ذوالفقار ملوکا نےدلائل میں کہا کہ  ہارون الرشید کو قتل کے مختلف 12 مقدمات میں 12 مرتبہ عمر قید کی سزا ہوئی۔ مجرم 1997سے جیل میں ہے،22 سال سزا کاٹ چکا ہے ۔ عدالت عمر قید کی 12 سزاؤں کو ایک ساتھ شمار کرنے کا حکم دے ۔

ہر گواہ سن لے، آج سے جھوٹی گواہی کا خاتمہ ہوگیا، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے عمرقید کی سزا پر کئی اعتراضات اٹھا دیے ، ان کا کہناتھا  کیا یہ غلط فہمی نہیں عمر قید کی سزا کی مدت 25 سال ہے۔ جب یہ پتہ نہیں زندہ کتنا رہنا ہے تو اسکو آدھا کیسے کردیں ۔ بڑے عرصے ایسے کسی کیس کا انتظار تھا جس میں عمر قید سزا کی مدت کا فیصلہ کریں۔ جیل کی سزا میں دن رات شمار کیے جاتے ہیں اس طریقے سے مجرم پانچ سال بعد باہر آجاتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا بہت سی غلط فہمیوں کو درست کرنے کا وقت آ گیا ہے ، عمر قید سزا کی مدت کے تعین کا معاملہ عوامی اہمیت کا ہے ۔

عدالت نے اٹارنی جنرل،صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور پراسیکیوٹرز جنرل کو نوٹسز جاری کردیئے عدالت نے رجسٹرار آفس کو معاملہ اکتوبر کے پہلے ہفتے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم بھی دے دیا ۔

تازہ ترین ویڈیوز