Friday, May 14, 2021
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

عزیر بلوچ کا سیاسی اور لسانی بنیاد پر 198 افراد کے قتل کا اعتراف

عزیر بلوچ کا سیاسی اور لسانی بنیاد پر 198 افراد کے قتل کا اعتراف
July 3, 2020
کراچی (92 نیوز) لیاری گینگ وار کے سرغنہ اور پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔ عزیر بلوچ نے 198 افراد کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس افسروں کی تعیناتیاں کروائیں۔ پاکستان اور بیرون ممالک میں اربوں روپے کےاثاثے ہیں۔ کراچی کے علاقے لیاری میں خوف اور دہشت کی علامت۔۔گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی رپورٹ  سامنے آگئی۔ عزیر بلوچ نے سیاسی ،لسانی اور گینگ وار کی بنیاد پر 198 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔۔اپنے کارندوں  اور گینگسٹرز کو براہ راست لوگوں کےقتل کے احکامات بھی دئیے۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نےاپنے مخالف ارشد پپو کو پولیس افسروں کی مدد سے قتل کیا۔۔ارشد پپو کو پولیس موبائل کے ذریعے اغوا کیا گیا۔ لاش جلا کر گٹر میں پھینک دی۔ سیاسی مخالفین کو بھتہ دینے کی اطلاع پر عزیر بلوچ نے شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں  فائرنگ کا حکم دیا، جس میں گیارہ افراد جان سے گئے۔ عزیر بلوچ نے متعدد پولیس اہلکاروں اور پیپلزپارٹی کے کونسلرز کے قتل کا بھی اعتراف کیا۔ عزیر بلوچ کے پاس ایران کی شناختی دستاویزات تھیں۔ ایرانی انٹیلی جنس حکام سے ملاقاتیں ایک دوست کے ذریعے کی گئیں۔ فشریز سے بھتہ، پلاٹوں اور گودام پر قبضہ کرنے کا اعتراف کیا گیا۔ عزیربلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ ماڑی پور اور لیاری شیر شاہ سےمال بردار ٹرک اسی کے حکم پر اغواء کیے جاتے۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ پاکستان سے فرار کے بعد بھی کراچی سے جمع کیا گیا بھتہ ہنڈی کے ذریعے وصول کرتا۔۔۔عزیر بلوچ اور اس کے قریبی ساتھیوں کے نام پر پاکستان اور  بیرون ممالک اربوں کی جائیدادیں ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا نام شامل نہیں۔۔ تاہم  پیپلزپارٹی کے ادوار میں ہی عزیر بلوچ کے کہنے پر پولیس افسروں کے تقرروتبادلے ہوتے رہے ہیں۔