عالمی عدالت آج بھارتی دہشتگرد کلبھوشن کیس کا فیصلہ سنائیگی

عالمی عدالت ‏ بھارتی دہشتگرد ‏ کلبھوشن کیس ‏ دی ہیگ ‏ ‏92 نیوز پاکستانی ٹیم ‏ اٹارنی جنرل ‏ نیٹ ورک ‏ کلبھوشن سدھیر یادیو ‏ بھارتی خفیہ ایجنسی ‏ را کا جاسوس ‏ بھارتی بحریہ ‏ حاضر سروس کمانڈر ‏ پاک، ایران ‏ سرحدی علاقے
۱۶ جولائی, ۲۰۱۹ ۱۱:۵۹ شام

دی ہیگ ( 92 نیوز) عالمی عدالت آج  بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کیس کا فیصلہ سنائے گی ،پاکستانی ٹیم اٹارنی جنرل کی قیادت میں دی ہیگ پہنچ گئی۔

بھارتی جاسوس ، دہشتگرد نیٹ ورک کے سرغنہ ، کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو کا  عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ  بھارت بنام پاکستان کا فیصلہ آج  سنایا جائے گا۔

پاکستان میں بھارتی دہشتگرد نیٹ ورک کا سرغنہ، سینکڑوں پاکستانیوں کا قاتل، بھارتی خفیہ ایجنسی را کا جاسوس اور بھارتی بحریہ کا حاضر سروس کمانڈر  کلبھوشن سدھیر یادیو، 3 مارچ 2016 کو پاک، ایران سرحدی علاقے سے رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا۔

را کے ایجنٹ کیخلاف 8 اپریل 2016 کو ایف آئی آر درج  ہوئی ،  اپنے جرائم کا اعتراف کرنے پر 10 اپریل 2016 کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت اسے سزائے موت سنائی گئی۔

آج  عالمی عدالت کا فیصلہ آنے تک بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی قید میں 3 سال 4 ماہ 14 دن پورے ہو جائیں گے۔

بھارتی دہشتگرد آرمی چیف سے رحم کی اپیل کر چکا ہے، جس پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا  ، تاہم بھارتی جاسوس کے پاس سپریم کورٹ اور صدر مملکت سے اپیل کا حق بھی ابھی موجود ہے ۔

بھارت نے مئی 2017 کو اپنے دہشتگرد، جاسوس اور حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا ،  پاکستان نے اٹارنی جنرل انور منصور کی قیادت میں ماہرین کی ٹیم تشکیل دی۔

پاکستانی ٹیم میں بطور ایجنٹ ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا و سارک ڈاکٹر محمد فیصل، بطور وکیل خاور قریشی ، بطور جونیئر وکیل اسد رحیم خان، بطور قانونی معاون جوزف ڈائیک، متحدہ عرب امارات اور ہالینڈ میں سفرا بطورمشیر شامل تھے۔ وزارت قانون ، وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی معاونت کیلئے شامل رہے۔

بھارتی قانونی و خارجہ امور ماہرین کی ٹیم میں بطور ایجنٹ وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری دیپک مٹھل، بطور معاون ایجنٹ وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر وی ڈی شرما، بطور وکیل ہریش سالو، بطور جونیئر وکیل مس چتنا رائے اور بھارت کی ہالینڈ میں سفیر مس کاجل بھاٹ بحیثیت مشیر شامل تھیں۔

عالمی عدالت کے جج رونی ابراھم کی سربراہی میں 10 رکنی بنچ نے 15 مئی 2017 کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز کیا۔ 18 مئی کو عدالت نے پاکستان کو سنے بغیر سزائے موت پر عملدرآمد معطل کیا گیا، 13 ستمبرکو بھارت نے اپنا موقف پیش کیا تو 13 دسمبر 2017 کو پاکستان نے جواب دیا۔

بھارت نے  پھر 17 اپریل 2018ء کو اپنا جواب جمع کرایا، اِسی دوران جولائی 2018 میں عالمی عدالت میں سابق چیف جسٹس، جسٹس ریٹائرڈ تصدیق حسین جیلانی کو پاکستان کے بطور ایڈہاک جج تقرر ہوا۔ 17جولائی 2018 کو پاکستان نے جواب الجواب داخل کیا۔

عالمی عدالت انصاف میں 18 فروری 2019 کو بھارت، 19 فروری کو پاکستان کے وکلاء نے 3، 3 گھنٹے دلائل دیے۔ 20 اور 21 فروری کو دونوں فریقین نے ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ تک جوابی دلائل دیے۔

دستاویزات، بیانات یا اضافی مواد کی وصولی اورسماعتیں ختم ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

عالمی عدالت انصاف، بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو مقدمہ میں فیصلہ ہالینڈ کے وقت کے مطابق 3 بجے، پاکستانی وقت کے مطابق 7 بجے سنائے گی۔

کمرہ عدالت سے فیصلہ براہ راست نشرکیا جائیگا۔ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس ،جسٹس تصدق حسین جیلانی بطور ایڈہاک جج موجود ہوں گے۔

پاکستان کی قانونی و سفارتی ٹیم اٹارنی جنرل انور منصور کی قیادت میں ہیگ پہنچ چکی ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز