طلبا یونین کی بحالی کی راہ ہموار، وفاق بھی پابندی کے خاتمے پر تیار


10 دسمبر, 2019 10:45 شام

اسلام آباد (92 نیوز) تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز پر پابندی ختم کرنے کیلئے بل کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی۔ سندھ کے بعد وفاق بھی پابندی کے خاتمے پر تیار ہو گئی۔

خواجہ آصف نے کہا طلبہ یونین سیاست کی نرسری ہوتی ہے۔ سعد رفیق بولے تمام جماعتوں میں اسٹوڈنٹس یونینز کے نمائندے موجود ہیں۔ پرویز اشرف بولے عمران خان یونینز کی بحالی کے متعلق ٹویٹ کر چکے۔ شیریں مزاری اور اسد عمر نے کہا یونینز بحال ہونی چاہئیں۔ مراد سعید نے کہا تمام جماعتیں مشترکہ بل لائیں۔

قومی اسمبلی اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن نے متفقہ طور پر بھارت کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں کے لئے شہریت دینے کا بل لوک سبھا میں پیش کرنا بنیادی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ قرارداد ڈاکٹر مزاری نے پیش کی۔

قومی اسمبلی نے لیگی رکن کھیل داس کوہستانی کے نجی بل کو بھی متفقہ طور پر قائمہ کمیٹی میں زیر غور لانے کی منظوری دی جس میں طلبا یونینز کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

گرفتار لیگی ارکان شاہد خاقان عباسی اور خواجہ سعد رفیق پروڈکشن آرڈرز پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ شاہد خاقان عباسی بولے کیا کیا جائے جہاں سپیکر ہی پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے میں رکاوٹ بن جائیں ۔ مجھے میرے خطوط کے جواب میں کہا میں چاہوں تو آپ کو اجلاس میں بلاؤں یا نہ بلاؤں۔ میں آج بھی آپ کے پرروڈ کشن آرڈرز پر نہیں عدالت کے فیصلے پر یہاں آیا ہوں۔

سپیکر بولے آپ کی درخواست پر میں دستخط کئے ، آپ تب ہی پروڈکشن آرڈرز پر اجلاس میں آئے ہیں۔ اس پر عمر بولے سپیکر صاحب آپ بالکل ٹھیک میرٹ پر کام کر رہے ہیں ، اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں آنے کی ضرورت نہیں۔

خواجہ سعدرفیق نے کہا رانا ثنا اللہ کے بھی پروڈکشن آرڈرز جاری کئے جائیں۔ شاہد خاقان عباسی کی طرف سے رانا ثنا اللہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کے خلاف ایوان سے چلے جانے پر مسلم لیگ ن ایوان سے واک آوٹ کرگئی۔ سپیکر نے قومی اسمبلی اجلاس جمعہ ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا۔

تازہ ترین ویڈیوز