صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست پر فریقین سےجواب طلب


صدارتی آرڈیننس ‏ فریقین سےجواب طلب اسلام آباد ‏ ‏92 نیوز مسلم لیگ ن صدر وزیر اعظم وزارت قانون س‏ فریقین سے جواب طلب ‏ چیف جسٹس ‏ اطہر من اللہ ‏ عدالت سے رجوع ‏ سیاسی معاملات ‏ محسن شاہنواز رانجھا
۱۳ نومبر, ۲۰۱۹ ۱۲:۲۹ شام

اسلام آباد ( 92 نیوز) صدارتی آرڈیننس کیخلاف مسلم لیگ ن کی درخواست پر صدر ، وزیر اعظم ، وزارت قانون سمیت فریقین سے جواب طلب کر لیا گیا ۔  چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ کی بجائے عدالت سے رجوع کرنا کیا پارلیمنٹ کی توہین نہیں، عدلیہ کو سیاسی معاملات سے دور رکھنا رکن اسمبلی کی ذمہ داری قرار دے دیا۔

دوران سماعت محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ حکومت نے ایک دن میں  8 صدارتی آرڈیننس منظور کئے ،ہم نے آرڈیننس کو چیلنج نہیں کیا بلکہ جس طریقے سے پاس کیا گیا وہ چیلنج کیا ہے ۔

جسٹس اطہر اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ تو اچھے ایشوز پر آرڈیننس ہیں ، پارلیمنٹ کی بجائے عدالت سے رجوع کرنا کیا پارلیمنٹ کی توہین نہیں، رکن اسمبلی کی ذمہ داری ہے عدلیہ کو سیاسی معاملات سے دور رکھے، آرڈیننس کی ایک مدت ہوتی ہے اس میں توسیع نہیں ہوسکتی۔

درخواستگزار نے 1947 سے پاس آرڈیننس کا ذکر کیا تو جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ بدقسمتی سے ملک میں آمریت رہی ،اس لیے اتنے صدارتی آرڈیننس پاس ہوئے۔

عدالت نے صدر اور وزیراعظم سے سیکرٹریز کے ذریعے جبکہ سیکرٹری سینیٹ ، سیکرٹری قومی اسمبلی اور وزارت قانون سے 15 دن میں جواب طلب کرلیا اور سماعت ملتوی کردی۔

ادھر زیر التواء مقدمے پر بیان بازی کے باعث  لیگی رہنما محسن شاہنواز رانجھا پر بھی توہین عدالت کی تلوار لٹکنے لگی ، صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے نوٹس لے لیا اور درخواستگزار کو مخاطب کرکے استفسار کیا کہ آپ کو زیر سماعت مقدمے پر بات کرنے سے روکا تھا آپ نے کہا کہ عدالت کے مطابق صدر پاکستان کا مواخذہ کیا جاسکتا ہے جبکہ عدالت نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ، کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

محسن شاہ نواز نے معافی مانگی تو جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ چلیں دیکھتے ہیں اس کا کیا کرنا ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز