شیخ رشید کیخلاف توہین عدالت کیس،عدالت کمشنرپر برہم ہو گئی

شیخ رشید کیخلاف توہین عدالت کیس،سپریم کورٹ کمشنر پر برہم ‏
۱۵ مئی, ۲۰۱۹ ۱۰:۴۳ دن

اسلام آباد ( 92 نیوز) شیخ رشید کیخلاف توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ کمشنر اور ڈی سی پر برہم ہو گئی ۔

جسٹس عظمت سعید نے کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر  کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ دونوں افسران راولپنڈی میں نوکری کے قابل نہیں،  اپنے لیے دوسری نوکری تلاش کریں،عدالت کے منع کرنے کے باوجود گرل گائیڈ ادارے کی دیوار کس کے حکم پر گرائی گئی ۔

ڈی سی راولپنڈی نے عدالت میں کہا کہ   عدالتی فیصلے کی توہین نہیں کی، جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ  کیا دیوار خود گر گئی یا آندھی نے گرا دی؟، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اسسٹنٹ کمشنر اور ایس ایچ او نے خود دیوار گرانے کی نگرانی کی، آپ کہہ دیں کہ جن بھوت آ کر دیوار مسمار کر گئے۔

ڈپٹی کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ میں لاہور میں تھا ، اطلاع ملی تو اسسٹنٹ کمشنر کو فوری بھجوایا جس پر  جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کیا لاہور مریخ پر ہے جو آپ لاتعلق ہوگئے تھے، عدالتی فیصلے پر عمل کرانا ڈی سی کی ذمہ داری تھی۔

ایڈووکیٹ جنرل  پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ دیوار تعمیر کر دی گئی ہے،  جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ  آپ دیوار نہ بھی تعمیر کریں تو مسئلہ نہیں، ہم خود کروا لیں گے،  ڈی سی اور کمشنر شاید عدالت کو مذاق سمجھتے ہیں، عدالت کیساتھ مذاق کیا تو اڈیالہ تک دونوں افسران ہنستے ہی جائیں گے۔

علی ظفر اور میشا شفیع تنازع کی سپریم کورٹ میں گونج

گرل گائیڈ کی وکیل عائشہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ راشد شفیق نے ڈی سی کی  شیخ رشید سے بات کرائی، شیخ رشید نے ڈی سی کو دیوار گرانے کی ہدایات دیں۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ڈی سی صاحب ، آپ لوگ وکیل کر لیں ، خود جتنا بولیں گے اتنا نقصان اٹھائیں گے،  کسی کو خوش کرنے کیلئے عدالت حکم کی خلاف ورزی کی گئی۔

دوران سماعت اشتر اوصاف کی طبیعت خراب ہونے پر عدالت نےسماعت ملتوی کر دی ۔عدالت نے شیخ رشید توہین عدالت اور شہباز شریف کیس ملتوی کردیے ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ  آج کوئی کیس نہیں سنیں گے ، مجھے اشتر اوصاف کی طبعیت کے حوالے سے آگاہ رکھا جائے ،  معلوم کرکے بتائیں اشتر اوصاف کو کس اسپتال منتقل کیا گیا۔

تازہ ترین ویڈیوز