سیالکوٹ کے حافظ بھائیوں کے قاتلوں کی سزائے موت،دس سال کی قیدمیں تبدیل

سیالکوٹ ‏ حافظ بھائی‏ اسلام آباد ‏ ‏92 نیوز سپریم کورٹ
۱۸ ستمبر, ۲۰۱۹ ۳:۴۷ شام

اسلام آباد ( 92 نیوز) سپریم کورٹ میں سیالکوٹ کےدو حافظ بھائیوں کے قتل میں ملوث مجرموں  کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی ، عدالت نے سزائے موت کے 7 مجرموں کی سزا 10 سال قید میں تبدیل کر دی۔

عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا پانے والے 5 مجرموں کی سزا بھی 10 سال قید میں تبدیل کر دی ۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں دو کہانیاں بنائی گئی ہیں ایک یہ کہ ایف آئی آر موقع پر جا کر پولیس نے درج کی جس کے مطابق چار افراد زخمی ہوئے   جن میں سے بلال اور ذیشان کی موت ہوگئی ۔ دوسری ایف آئی آر میں ان چار افراد کا نام ہی  نہیں ، موقع سے دو پستول اور دس گولیاں بھی برآمد  ہوئیں ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیسی کہانی بنائی گئی ہے  کہ صرف یہ کہہ کر کہ کچھ عرصہ قبل کرکٹ گراؤنڈ میں ان کا جھگڑا تھا آپ سات بندوں کو پھانسی پر چڑھوا رہے ہیں  ، سزا دینے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، اگر لوگوں نے ڈاکوں کو پکڑ بھی لیا تھا پھر بھی  سزا کا اختیار لوگوں کے پاس نہیں ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم ملزموں کو چھوڑ دیں گے تو لوگوں کو تشدد کرنے لائسنس مل جائے گا، اگر  جرم ثابت ہو تو پھر سزا بنتی ہے ، ٹرائل کورٹ نے واقعے کی ویڈیو دیکھ کر فیصلہ کیا ہے ، وہ ویڈیو مسخ کی گئی تھی اس کا فرانزک بھی نہیں کیا گیا ۔

سال 2010 میں سیالکوٹ میں دو حقیقی بھائیوں  کو  قتل کر دیا گیا تھا ، حافظ قرآن دونوں بھائیوں  کو مشتعل افراد نے بھرے بازار میں باندھ کر تشدد  کے بعد قتل کیا تھا ، سپریم کورٹ نے دوحقیقی بھائیوں منیب اور معیظ کے قتل کا از خود نوٹس لیا تھا ،  ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے  سات ملزموں کو سزائے موت ، اور چھ  کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔

تازہ ترین ویڈیوز