سنگین غداری کیس ، سابق صدرکو 2مئی کو طلب ، مشرف کا بھی واپسی کا عندیہ ‏


پرویز مشرف
۲۸ مارچ, ۲۰۱۹ ۳:۲۷ شام

اسلام آباد ( 92نیوز ) سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے سابق صدر  وجنرل (ر) پرویز مشرف  کو دو مئی کو طلب کر لیا ، دوسری جانب پرویز مشرف نے بھی واپسی کا عندیہ دیدیا۔

عدالت نے پرویز مشرف کیلئے تیار سوالنامہ فریقین کو دینے کی بھی ہدایت کردی  ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم پیش نہ ہوا تو مزید حکم جاری کریں گے ۔

عدالت نے سابق صدر و جنرل ریٹائرڈ کی بریت کی درخواست بھی واپس کر دی اور قرار دیا کہ باضابطہ درخواست دائر ہونے پر سماعت کی جائے گی۔

پرویز مشرف کے وکیل صفدر علی نے خصوصی عدالت کو  بتایا کہ  ان کے موکل 13 مئی کو عدالت آنا چاہتے ہیں ، ساتھ ہی بریت کی درخواست دائر کی اور موقف اختیار کیا سنگین غداری کا مقدمہ وفاقی حکومت دائر کر سکتی ہے ، وفاقی حکومت کا مطلب وفاقی کابینہ ہے وزارت داخلہ نہیں۔

جسٹس طاہر صفدر نے ریمارکس دئیے کہ 13 مئی کو ماہ رمضان چل رہا ہوگا، ججز کی دستیابی مشکل ہوگی ، مشرف نے پیش ہونا ہے تو دو مئی کو آجائیں  ، اور اگر پیش نہ ہوئے تو عدالت بیان ریکارڈ کرنے سے متعلق مناسب حکم دے گی۔

پراسیکیوٹر نے ملزم کی بیماری پر سوال اٹھایا اور ملزم کی جگہ انکے وکیل سے 342 کے سوالات کے جوابات لینے کا آپشن دیا تو وکیل صفدر علی نے ڈاکٹرز کا پینل بھجوانے کی تجویز دے دی اور بیان ریکارڈ کرانے سے بھی انکار کردیا ۔

وکیل صفدر علی نے کہا پرویز مشرف بھی ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ نہیں کرائیں گے ۔

عدالت نے پرویز مشرف کی بریت کی درخواست بھی واپس کردی اور قرار دیا کہ باضابطہ درخواست دائر ہونے پر سماعت کرینگے ، ساتھ ہی پرویز مشرف کو دو مئی کو طلب کرتے ہوئے تیار سوالنامہ فریقین کو دینے کی بھی ہدایت کر دی۔

کیس کی سماعت 2 مئی کو دوبارہ ہوگی۔

تازہ ترین ویڈیوز