Tuesday, May 11, 2021
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

ریاستی دہشت گردی میں بھارتی فورسز اب تک 325 کشمیریوں کو شہید کر چکیں

ریاستی دہشت گردی میں بھارتی فورسز اب تک 325 کشمیریوں کو شہید کر چکیں
April 12, 2021

سرینگر (92 نیوز) ریاستی دہشت گردی میں بھارتی فورسز پانچ اگست دوہزار انیس سے اب تک 325 کشمیریوں کو شہید کر چکیں ہیں۔

بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کرہ ارض پر وہ خطہ جہاں مظلوموں کا ناحق خون پانی کی طرح بہایا جارہا ہے۔ مودی حکومت کی قابض ظالم فوج نے بربریت کی تمام حدیں پار کر دیں۔ نہتے کشمیری نوجوانوں کو اس کے والدین کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

5 اگست 2019 جب مودی کی فاشسٹ حکومت نے مقبوضہ وادی پر شب خون مارا۔ یک طرفہ آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر دیا ۔ مودی حکومت کی سفاکی اس پر بس نہیں ہوئی بلکہ 5 اگست 2019 سے اب تک انسانی حقوق کی ایسی کوئی پامالی نہیں جو مقبوضہ کشمیر میں نہ کی جارہی ہو۔

ریاستی دہشت گردی کی تازہ  مثال بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ 5 اگست 2019 سے 12 اپریل 2021 تک 325 کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں 41 کشمیری نوجوانوں، بچوں اور بزرگوں کو دوران حراست تشدد کرکے شہید کیا گیا۔ 1753 افراد کو شدید زخمی کیا جاچکا ہے جو اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

اسی عرصے میں 446 کشمیری پیلٹ گنز کا شکار ہوئے ، 19 کشمیری ایسے ہیں جو ایک آنکھ سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ 144 کشمیریوں کی آنکھوں کو نقصان پہنچا۔ 14636 کشمیریوں کو بغیر کسی جرم کے حراست میں لیا گیا ہے نہ کوئی ایف آئی ار اور نہ ہی کسی کو معلوم ہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔

5 اگست 2019 سے اب تک کشمیری مسلمانوں کے ایک ہزار 8 گھروں کو قابض بھارتی فوج نے نظر آتش  کیا ،17 کشمیری خواتین کو بیوہ اور 39 بچوں کو یتیم کیا جا چکا ہے جبکہ 106 کشمیری بہنوں کو بھارتی فوج کی جانب سے حراساں کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ۔

گزشتہ 5 دنوں میں قابض بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں 12 نوجوان کشمیریوں کو شہید کیا ۔ ان میں سے ایک 14 سالہ فیصل بھی ہے۔ ۔فیصل سمیت ایسے درجنوں کشمیری نوجوان ہیں جن کی لاشیں تک ان کے لواحقین کے حوالے نہیں کی جارہی۔

616 دن ہوچکے ہیں مقبوضہ وادی میں کشمیریوں سے تمام بنیادی حقوق چھین لئے گئے۔ تعلیمی ادارے بند، انٹر نیٹ معطل، خوراک اور دوائیوں کی شدید قلت ہے۔