راجستھان میں ہندو انتہا پسندوں کا مسلمان رکشہ ڈرائیور پر تشدد


torture
09 اگست, 2020 9:48 شام

راجستھان ( 92 نیوز) بھارت میں ہندوغنڈوں کا مسلمانوں پر ظلم ستم جاری ، راجستھان میں 52 سالہ رکشہ ڈرائیورپر تشدد، حملہ آوروں نے مودی زندہ باد کہنے پر مجبور کیا۔

بھارت میں ہندو غنڈوں کا مسلمانوں پر ظلم تھم نہ سکا، راجستھان میں 52 سالہ رکشہ ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، غفار احمد نامی بزرگ رکشہ کا کہنا ہے ڈرائیورحملہ آوروں نے مودی زندہ باد کے نعرے لگانےپر مجبور کیا،انکار پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

مودی کا بھارت عدم برداشت ،تعصب اور انتہاپسندی کی تمام حدیں پار کرگیا، ہندوستان مودی کی حکومت میں نفرستان میں تبدیل ہوگیا، آئے روز مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ راجستھان کے علاقے میں دو کار سوار انتہا پسند ہندوؤں نے رکشہ ڈرائیور 52 سالہ عبدالغفار کو روکا اور تلخ کلامی پر کار سواروں نے بزرگ شہری پر تھپڑوں کی بارش کردی۔

رکشہ ڈرائیور عبدالغفار نے تھوڑی مزاحمت کی اور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تاہم کارسواروں نے کچھ فاصلے پر انہیں دوبارہ پکڑ لیا اور جے شری رام اور مودی زندہ باد کے نعرے لگانے کا مطالبہ کیا۔

رکشہ ڈرائیور غفار احمد کا کہنا تھا کہ نعرہ لگانے کے انکارپر میری داڑھی نوچی اور مجھے ماراپیٹا گیا، تشدد سے میرے سامنے کے دانت بھی ٹوٹ گئے، ہندو غنڈوں نے مجھ سے میری کمائی بھی چھین لی۔

تجزیہ کاروں نے نہ صرف اس واقعے کی مذمت کی بلکہ مودی کی حکومت میں بڑھتے تعصب پر تشویش کا بھی اظہار کیا۔غفار احمد کے اہل خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی جس کے بعد پولیس نے دو ملزمان کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز