خورشید شاہ 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

سکھر ، غیر قانونی ، اثاثوں ، کیس ، گرفتار ، پیپلز پارٹی ، رہنما ، خورشید شاہ ، جسمانی ریمانڈ ، نیب
۲۱ ستمبر, ۲۰۱۹ ۱۲:۵۷ شام

 سکھر (92 نیوز) غیر قانونی اثاثوں کے کیس میں گرفتار پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ کو 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا گیا۔

 خورشید شاہ کو احتساب عدالت سکھر کے جج امیر مہیسر کے سامنے پیش کیا گیا۔ جج نے پی پی رہنما سے کہا شاہ صاحب آپ کو نیب سیل میں صحت کے حوالے سے کوئی مسئلہ تو نہیں ۔

خورشید شاہ بولے صحت کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں، گھر سے کھانا لانے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نےخورشید شاہ کو طبی سہولیات، گھر سے کھانا منگوانے اور فیملی سے ملاقات کی اجازت دے دی۔

نیب کی طرف سے خورشید شاہ کے 15 روزہ  جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر جج نے ریمارکس دیئے کہ گرفتاری اور الزامات کے حوالے سے کوئی کاغذات جمع نہیں کرائےگئے۔ بغیر کاغذات کے ریمانڈ نہیں دے سکتا۔ عدالت نے آدھے گھنٹے کے لیے سماعت ملتوی کر دی۔ دوبارہ سماعت شروع ہونے پر نیب نے شواہد عدالت میں پیش کیے۔

نیب ٹیم نے عدالت میں خورشید شاہ کے بنگلے کے حوالے سے شواہد پیش کیے۔ عدالت کو آگاہ کیا کہ سابق اپوزیشن لیڈر پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں انکوائری شروع کی۔ نیب سے تعاون نہ کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ سابق اپوزیشن لیڈر کے وکیل کہتے ہیں نیب خورشید شاہ کے خلاف کوئی شواہد پیش نہیں کر سکا۔

اس سے قبل پیپلزپارٹی رہنما کو سخت سکیورٹی میں نیب آفس سے احتساب عدالت لایا گیا۔ رکاوٹیں کھڑی کرکے راستے کو بند کیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ جیالوں کی بڑی تعداد بھی عدالت کے باہر پہنچی۔

تازہ ترین ویڈیوز