Wednesday, April 14, 2021
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

خفیہ ووٹنگ ہونی چاہئے یا نہیں ، فیصلہ پارلیمنٹ کریگی ، چیف جسٹس پاکستان

خفیہ ووٹنگ ہونی چاہئے یا نہیں ، فیصلہ پارلیمنٹ کریگی ، چیف جسٹس پاکستان
February 24, 2021

اسلام آباد (92 نیوز)سینیٹ انتخابات سے متعلق چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ خفیہ ووٹنگ ہونی چاہیے یا نہیں، فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، آئین کہتا ہے خفیہ ووٹنگ ہو تو ہوگی ، بات ختم۔

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت رضا ربانی نے دلائل نمٹاتے ہوئے کہا کہ سینٹ الیکشن سیاسی معاملہ ہے ریاضی کا سوال نہیں، سیاسی معاملات میں سمجھوتے ہوتے رہتے ہیں، آرڈیننس کے خلاف کسی ایوان میں قرارداد منظور ہوئی تو وہ ختم ہو جائے گا، عارضی قانون سازی کے ذریعے سینٹ الیکشن نہیں ہو سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آرڈیننس کا سوال عدالت کے سامنے نہیں، آرڈیننس جاری ہونے پرکوئی رائے نہیں دیں گے۔
پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیئے کہ سینیٹ الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہوتا ہے، ووٹ انفرادی ہوں تو رائے شماری خفیہ ہی ہوسکتی ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا پیپلزپارٹی نے اپنے ارکان کو کہا ہے کہ جس کو چاہیں ووٹ دیں؟، فاروق ایچ نائیک بولے یہ فیصلہ پارٹی قیادت کرتی ہے۔

 چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جمہوریت میں پارٹی قیادت کا کوئی کردار نہیں ہوتا، جمہوریت میں فیصلے پارٹی کرتی ہے، قیادت نہیں، کوئی اوپر سے فیصلےلاکر نافذ نہیں کر سکتا، پارٹیوں کے فیصلے بھی جمہوری انداز میں ہونے چاہئیں۔
مسلم لیگ ن کے وکیل بیرسٹرظفراللہ اور جے یو آئی اے کے وکیل جہانگیر جدون نے اپنے دلائل میں غیرملکی عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں بین الاقوامی معاملات پرفیصلہ کرنے کےلیے نہیں بیٹھے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کسی بین الاقوامی معاہدے کی حامی نہیں، آپ تو عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں، کیا ہم امریکی عدالتوں کے پابند ہیں؟۔

 سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا تھا کہ عدالت ریفرنس پر رائے دینے سے اجتناب کرے ، کیا الیکشن ایکٹ 2017 ختم ہونے سے سینٹ انتخابات نہیں ہونگے؟۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قانون میں کبھی خلا نہیں آتا، کوئی قانون ختم ہو تو اس سے پہلے والا بحال ہو جاتا ہے، اگر سارے انتخابات سیکرٹ ہیں تو مخصوص نشستوں پر سیکرٹ بیلٹنگ کیوں نہیں ہوتی۔آپ یہ نہیں کہہ سکتے تمام الیکشن ایک ہی طریقے سے ہوں گے۔خفیہ اور اوپن ووٹنگ دونوں کے لیے اچھی اور بری رائے موجود ہے۔

کیس کی آئندہ سماعت جمعرات کو ہوگی۔