حکومت میں آئے تو معاشی حالت خراب تھی ، حفیظ شیخ

حفیظ شیخ اسلام آباد ‏ ‏92 نیوز ‏ مشیر خزانہ ‏ معاشی حالت ‏ چین اور سعودی عرب ‏ بجٹ پائیدار ترقی ک ایس ای سی پی ‏ تیس جون ‏ ایمنسٹی اسکیم ‏ بین الاقوامی ماہرین ‏ ترقی کا سفر ‏ ادھار تیل کی سہولت
۲۵ مئی, ۲۰۱۹ ۵:۳۶ شام

اسلام آباد ( 92 نیوز ) مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت میں آئے تو معاشی حالت خراب تھی ، چین اور سعودی عرب نے سہارا دینے کیلئے مدد دی ، بجٹ میں ملک کے مستقل اور پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کے فیصلے ہوں گے ۔

مشکلات کے دن ختم ہوتے جا رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کی معاشی ٹیم نے نیا معاشی پلان قوم کے سامنے رکھ دیا۔

مشیر  خزانہ حفیظ شیخ نے دیگر وزرا کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے   جہاں اپنے اہداف سے آگاہ کیا وہیں سابق حکومتوں کے لئے گئے قرضوں،مالیاتی خسارہ اور دوسری معاشی پیچیدگیوں سے بھی آگاہ کیا۔

مشیر خزانہ نے آئی ایم ایف سے ہونیوالے معاہدے   کی تفصیلات اور حکومت کی ترجیحات سے بھی آگاہ کیا۔وزیر خزانہ نے 2020کو معاشی استحکام کا سال قرار دے دیا۔ حکومتی اخراجات  کمی کےساتھ ساتھ ڈیموں  اور سڑکوں سمیت بڑے منصوبوں  کی تعمیر کا اعلان بھی کردیا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ملک میں صرف 20 لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں جن میں سے تنخواہ دار طبقہ ملک کا 85فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے ، ٹیکس ادا کرنے والوں میں تنخواہ دار 6لاکھ افراد ہیں ۔ ایس ای سی پی کے ساتھ ایک ہزار کمپنیا ں رجسٹرڈ ہیں لیکن آدھی ٹیکس بھرتی ہیں ،صرف 40 ہزار صنعتیں سیلز ٹیکس کے لیے رجسٹرڈ ہیں ،ٹیکس ادا نہ کرنے یا کم ادا کرنے والوں پر بوجھ ڈالنے کی تجویز ہے ۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ تیس جون کے بعد ایمنسٹی اسکیم میں حصہ نہ لینے والوں کے خلاف حکومت میں سخت ایکشن لیا جاسکتا ہے ، بین الاقوامی ماہرین کی پاکستان کی معیشت سے متعلق رپورٹس حوصلہ افزا ہیں، آنے والا سال معیشت کے استحکام کا سال ہے۔ نئے سال میں ایسی پائیدار بنیاد دینا چاہتے ہیں کہ ترقی کا سفر آسانی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ سعودی عرب سے 3.2ارب ڈالر ادھار تیل کی سہولت لی گئی، ادھار تیل کی سہولت یکم جولائی سے شروع ہوگی، ورلڈ بینک اور ایشین ترقیاتی بینک سے 2 سے 3ارب ڈالر لے سکیں گے ، اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی مؤخر ادائیگیوں پر 1.2 ارب ڈالر قرض ملے گا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف چند ہفتوں میں قرض کی منظوری دے دیگا، آئندہ چند ہفتوں میں اسٹاف لیول ایگریمنٹ طے پایا گیا ہے ۔ آئی ایم ایف سے تین سال کے لیے 6ارب ڈالر لے رہے ہیں ، شرح سود 3.2 فیصد ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں درآمدات اور برآمدات میں فرق 4 ارب ڈالر کم کیا گیا ہے ، امپورٹ ڈیوٹیز لگا کر درآمدات کو کم کیا گیا ہے ۔چیئرمین ایف بی آر کو 5550 ارب کا ٹارگٹ دے رہے ہیں ،تمام ادارے اخراجات کم کرنے کی کوشش کریں گے ،دسمبر تک لائن لاسز زیرو کر دیں گے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ ہر آئی ایم ایف کے بنیادی پوائنٹس ایک جیسے ہوتے ہیں ،جو بھی پہلے آئی ایم ایف کے پاس نہ گیا ہو وہ اپنا ہاتھ اوپر کرے ،تنقید کرنے والوں کے کئی انداز ہیں ،آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری تک معلومات شیئر نہیں کی جاسکتیں، لوگ آئی ایم ایف کے بارے میں 2طرح کی شکایات کررہے ہیں، جو لاعلم ہیں وہ اعتماد سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زراعت میں 4.4فیصد کمی ہوئی ہے ،کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے 100ارب روپے رکھے گئے ہیں ،کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو سبسڈائزڈ ریٹ پر قرض ملیں گے ،وزیراعظم کا 50لاکھ گھروں کا منصوبہ 28سیکٹرز میں ملازمتیں دے سکتا ہے ۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ گروتھ ریٹ زیادہ نہ ہونے کے باوجود ملازمتیں بڑھانا ہیں،صحیح پالیسیاں اختیار کرنے سے نئی ملازمتیں پیدا کی جاسکتی ہیں،کوشش ہے کہ فوری طورپر استحکام کا عمل مکمل کریں ،فاٹا میں چار گھنٹے بجلی ملتی تھی،رمضان میں 10گھنٹے دی جا رہی ہے ،رمضان پیکج کے لیے 6ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ پسماندہ علاقوں کے لیے 50ارب کے نئے پراجیکٹس شروع کیے جائیں گے ،احساس پروگرام کی رقم 80ارب سے 180 ارب روپے کررہے ہیں ،کمزور بجلی صارفین کو تحفظ کے لیے بجٹ میں 216ارب رکھے جارہے ہیں ،حکومت کا اہم فلسفہ عوام کی خوشحالی اور مشکلات سے نمٹنا ہے ۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ تیل کی قیمت میں اضافہ ناگزیر ہونے کے باوجود کمزور طبقوں کی سبسڈی کے ذریعے حفاظت کریں گے ، انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں حکومت کے اختیار میں نہیں ہیں۔

تازہ ترین ویڈیوز